بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

ہوائی جہاز میں اوقات نماز کی تعیین


سوال

ہوائی جہاز میں اوقات نماز کی تعیین کیسے کریں؟

جواب

اللہ  تعالی کی جانب سے دن رات میں بندوں پر پانچ نمازیں  فرض کی گئی ہیں  اور ان  کے لیے اوقات مقرر ہیں ، انہی اوقات کے اندرنماز  ادا  کرنا لازم  ہے ،ان اوقات کی تفصیل یہ ہے :

فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہےاور صبح صادق اس وقت ہوتا ہے  جب مشرق کی طرف آسمان کے کنارے پر سفیدی پھیل  جائے ، پھر فجر کا وقت  سورج کے طلوع  ہونے   تک جاری رہتا ہے ۔ ظہر کا وقت زوال شمس سے شروع ہوتاہے اور احناف کے ہاں  جب ہر چیز کا سایہ(سایہ اصلی کے علاوہ)  اس کے دو مثل ہوجائے  تواس وقت ظہر کا وقت  ختم ہوجاتا ہے ۔ظہر کا وقت ختم  ہوتے ہی  عصر کا وقت  شروع ہوجا تا ہےاورسورج کے غروب ہونے  پر ختم ہوجاتا ہے ، مغرب کا وقت  سورج غروب  ہونے سے شروع ہوتا ہے اور مفتی بہ قول کے مطابق  شفق احمر (یعنی آسمان کے کنارے  سے سرخی )غائب ہونے تک  جاری رہتا ہے، اور شفق احمر غائب ہونے سے لےکر صبح صادق تک  عشاء کا وقت  ہے ۔

جہاز میں سفر کرنے والا چونکہ زمین سے بہت بلندی پر ہوتا ہے اس لیے اس کا افق زمین کے افق سے کافی مختلف ہوتا ہے چنانچہ مشاہدہ ہے کہ جہاز جہاں سے گزر رہا ہو وہاں نیچے زمین  پر غروب ہوچکا ہوتا ہے جب کہ جہاز میں سوار لوگوں کو سورج سامنے نظر آتا ہے ، چنانچہ نماز کے اوقات میں نہ تو اس جگہ کا اعتبار کیا جاسکتا ہے ،جہاں سے جہاز نے اڑان بھری  ہو ، نہ اس جگہ  کا جہاں جارہا ہے اور نہ اس جگہ کا جہاں سے گزر رہا ہے بلکہ جہاز میں  موجود لوگ خود ہی نماز کے اوقات کا اندازہ لگا کر نماز کا اہتمام کریں گے جس کا طریقہ یہ ہے  کہ :

  • فجر  کے وقت جہاز کی  کھڑکیوں سے   مشرقی جانب نظر رکھیں جب آسمان  کے  کنارے پر  صبح کی روشنائی اور سفیدی نمایاں نظر آجائے تو فجر  کی نماز ادا کریں ۔
  •  ظہر کی نماز کا وقت زوال شمس سے شروع ہوجاتا ہے اور  زوال کا تعلق طول بلد کے ساتھ ہے اس لیے جس علاقے سے جہاز گزر رہا ہو جہاز کے  عملہ سے پوچھ کر یا نیوی گیشن کی سہولت استعمال کرکے اس جگہ کا طول البلد معلوم کرکے وہاں کے زوال کا وقت کسی معتبر موبائل ایپ  یا نقشہ سے معلوم کیا جائے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر جہاز کی کھڑکیوں پر نظر رکھے  جب سورج کی  شعاعیں جہاز کی مغربی جانب سے  کھڑکیوں کے اندر داخل ہونا شروع ہوجائیں تو معلوم ہوگا کہ زوال ہوگیا ہے لہذا اب ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے  ۔
  •   عصر کی نماز اس وقت پڑھے  جب سورج مغرب کی جانب خوب  مائل ہوجائے اور غالب گمان ہو کہ اب ہر چیز کا سایہ دو مثل سے بڑھ گیا ہوگا  ۔
  • مغرب کی نماز  کے لیے بھی جہاز کی کھڑکیوں سے مغرب  کی طرف نظر رکھے  اور سورج غروب ہونے  کے بعد نماز  پڑھے  ۔
  • جبکہ عشاء کی نماز جہاز میں اس وقت پڑھی جائے جب  مغرب  کی طرف  آسمان پر مکمل تاریکی چھا جائے ۔

 

قال الله تعالى: ﴿إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِینَ كِتَٰبًا مَّوۡقُوتًا﴾. (سورة النساء:103)

وقت الفجر من الصبح الصادق وهو البياض المنتشر في الأفق إلى طلوع الشمس ولا عبرة بالكاذب وهو البياض الذي يبدو طولا ثم يعقبه الظلام فبالكاذب لا يدخل وقت الصلاة ولا يحرم الأكل على الصائم... ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء. كذا في الكافي وهو الصحيح... ووقت العصر من صيرورة الظل مثليه غير فيء الزوال إلى غروب الشمس. هكذا في شرح المجمع... ووقت المغرب منه إلى غيبوبة الشفق وهو الحمرة عندهما وبه يفتى... ووقت العشاء والوتر من غروب الشفق إلى الصبح. كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية ،كتاب الصلاة،الباب الأول في مواقيت الصلاة وما يتصل بها،ج:1،ص:107)


فتویٰ نمبر : 10541/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں