بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

فری لانسنگ کے ذریعہ کمانا


سوال

فری لانسنگ کے ذریعہ آن لائن خدمات کے عوض رقم لینا کن صورتوں میں  جائز اور کن  صورتوں میں ناجائز ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے ۔فری لانسنگ بھی عقد اجارہ  ہی کی ایک صورت ہے جس  میں فری لانسر کی حیثیت اجیر مشترک  کی ہے جبکہ  گاہک کی حیثیت  مستاجر کی ہوتی ہے اور ان دونوں کے مابین عقد اجارہ طے پاتاہے چنانچہ ان کے مابین ہونے والےعقد میں اجارہ کی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں فری لانسنگ کے ذریعے جو خدمات فراہم کی جاتی ہیں اگر وہ غیر شرعی خدمات (مثلا: کسی حرام چیز کی تشہیر،تصویر سازی، موسیقی ،وغیرہ) نہ ہوں تو ان کے عوض رقم وصول کرنا جائز ہے۔

 

(الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير موقت)۔۔۔(أو موقتا بلا تخصيص)۔۔۔(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه)۔  (الدرالمختار، باب ضمان الأجير،ج6،ص:64)

ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا۔(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، باب الاول،ج4،ص:411)

ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔ (الهداية، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة،ج:3،ص:306)


فتویٰ نمبر : 6227/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں