بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

عدت وفات میں بیوہ کا ڈاکٹر کے پاس جانا


سوال

 کیا کوئی عورت عدت وفات میں ڈاکٹر کے پاس جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عدت وفات کے دوران عورت کے لیے بغیر کسی  شرعی عذر کے گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو جیسے معتدہ بیمار ہو یا نفقہ کا بندوبست نہ ہو تو علاج کے لیےاور کسب معاش کی غرض سے نکلنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر ڈاکٹرکے پاس جانا ضروری ہو تو علاج کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے، تاہم جلد از جلد گھر واپس آنے کا اہتمام کرے۔

 

(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه. (الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الطلاق، باب العدة، فصل في الحدادص:536)

(قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا. والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير۔ (البحرالرائق، كتاب الطلاق، فصل في الإحداد، ج:4، ص:166)


فتویٰ نمبر : 7126/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں