بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

حکومت کا زمین کے مالکان کو اپنی طرف سے انٹرسٹ کی مد میں پیسے دینا


سوال

حکومت نے سڑک کے لیے ایک زمین مالکان سے لے لی  ان کے ساتھ کوئی قیمت طے نہیں کی۔نہ ہی کوئی اجازت لی۔اور سڑک بنا کر تیس لاکھ روپے دے دیے ۔مالکان نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ رقم اصل قیمت سےکم ہے جس میں اصل قیمت دی جائے 14 سال مقدمہ چلا ۔آخر میں عدالت نے فیصلہ کیا کہ 96لاکھ مزید زمین کی قیمت کی مد میں اور 65 لاکھ انٹرست کے نام سے دی جائے ۔چنانچہ یہ ساری رقم حوالہ کردی ۔اب کیا مالکان کو انٹرسٹ کے نام سے جورقم دی گئی   وہ ان کے لیے وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مال پر سود کا حکم تب لگے گا جب کسی کو قرض  دیتے وقت اس میں اضافہ کی شرط لگائی گئی ہو۔چنانچہ اگراضافہ کی شرط نہ ہو تو اصل حق پر اضافہ مل جائے تو اس پر سود کا حکم نہیں لگے گا نیزجس مال پر تاحال ملکیت ثابت نہ ہو اوروہ  بمع اضافہ مل جائے تو وہ اضافہ سود شمار نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق  حکومت  نےعدالت  کے حکم پر انٹرست کی مد میں جو 65 لاکھ روپے زمین کے مالکان کو دیے ہیں ان کے لیے اس کا استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ زمین کے مالکان نے اصل رقم پر اضافہ کی کوئی شرط نہیں لگائی تھی اور نہ ہی اس رقم پر پہلے سے ان کی ملکیت ثابت تھی لہذا اس  پر سود کاحکم نہیں لگ سکتا ۔

 

الربا ‌هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه. (الهداية، كتاب الربا،ج:3، ص:61)


فتویٰ نمبر : 3724/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں