بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

امام کا مقتدی کے التحیات مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیرنا


سوال

اگر کوئی امام مقتدی کے التحیات مکمل پڑھنے سے پہلےسلام پھیر دے تو مقتدی کیا کرے یعنی مقتدی بھی امام کے ساتھ سلام پھیر دے یا تشہد مکمل پڑھ کر سلام پھیر دے؟

جواب

واضح رہے کہ قعدہ میں تشہد(التحیات) پڑھنا نماز کے واجبات میں سے ہے۔ لہٰذا تشہدکا چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے، اگر کوئی شخص تشہد پورا کیے بغیر امام کے ساتھ سلام پھیر دے تو اس کی نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوگی۔نیزجب کسی واجب کی ادائیگی کرنے سے امام کی پیروی میں تاخیر لازم آتی ہو تو وہ واجب نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ واجب کی ادائیگی کے بعد امام کی پیروی کی جائے گی۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی امام مقتدی کے التحیات مکمل پڑھنے سے پہلے سلام پھیر دے تو مقتدی کو چاہیے کہ تشہد مکمل پڑھنے کے بعد سلام پھیر دے۔

 

(بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز؛ ولو سلم والمؤتم في أدعية التشهد تابعه لأنه سنة والناس عنه غافلون.(قوله لوجوبه) أي لوجوب التشهد كما في الخانية وغيرها، ومقتضاه سقوط وجوب المتابعة كما سنذكره وإلا لم ينتج المطلوب فافهم۔(قوله: و لو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح، ونازعه ط والرحمتي، وهو مفاد ما في شرح المنية حيث قال: والحاصل أن متابعة الإمام في الفرائض والواجبات من غير تأخير واجبة فإن عارضها واجب لا ينبغي أن يفوته بل يأتي به ثم يتابعه لأن الإتيان به لا يفوت المتابعة بالكلية وإنما يؤخرها، والمتابعة مع قطعه تفوته بالكلية، فكان تأخير أحد الواجبين مع الإتيان بهما أولى من ترك أحدهما بالكلية، بخلاف ما إذا عارضتها سنة لأن ترك السنة أولى من تأخير الواجب. (رد المحتار، كتاب الصلاة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، ج:1، ص:496)


فتویٰ نمبر : 10376/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں