بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

عیسائی پڑوسی کے ہاں فوتگی پر تعزیت کرنا


سوال

ہمارے عیسائی پڑوسیوں کے ہاں فوتگی ہوئی ہے۔ کیا اسلامی نقطہ نظر سے ہمیں تعزیت کے لیے ان کے گھر جانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ غیر مسلم کے ہاں فوتگی پر اس کے گھر والوں سے تعزیت کرنا اور تسلی کے کلمات کہنا جائز ہے، لیکن غیر مسلم کی تجہیز و تکفین میں شرکت کرنا، اس کی قبر پر جانا یا اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا جائز نہیں ہے۔   غیر مسلم سے  تعزیت کے وقت یہ الفاظ کہہ سکتےہیں: "أخلف الله عليك خيرا منه، وأصلحك" یعنی اللہ تعالی  آپ کو اس سے بہتر بدلہ دے اور آپ کی اصلاح فرمائے۔ یعنی اللہ تعالی  آپ کو اسلام کی ہدایت دے اور آپ کو مسلمان اولاد عطا فرمائے۔

 

(‌قوله ‌وجاز ‌عيادته) ‌أي ‌عيادة مسلم ذميا نصرانيا أو يهوديا، لأنه نوع بر في حقهم وما نهينا عن ذلك، وصح أن النبي الله «عاد يهوديا مرض بجواره»۔۔۔۔ جار يهودي أو مجوسي مات ابن له أو قريب ينبغي أن يعزيه، ويقول أخلف الله عليك خيرا منه، وأصلحك وكان معناه أصلحك الله بالإسلام يعني رزقك الإسلام ورزقك ولدا مسلما۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظروالإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:388)


فتویٰ نمبر : 10377/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں