بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
مجہول کمیشن پر کاروبار کرنا
سوال
میرا ایک دوست ہے جو کمیشن پر کاروبار کرتا ہے، اس طریقے سے کہ دکاندار اسے کہتے ہیں کہ یہ چیز ہزار روپے پر فروخت کرو، اور ہزار روپے سے زائد جتنے بھی روپے پر فروخت کروگے، باقی رقم آپ کی ہوگی۔ پھر یہ شخص وہی چیز بارہ سو یا اس سے زیادہ پر فروخت کرتا ہے، تو ہزار روپے دکاندار کو دیتا ہے اور باقی رقم اپنے لیے رکھتا ہے۔ تو کیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنی چیز بیچنے کا کہے اور اس کی اجرت اس طرح طے کرے کہ مقررہ رقم سے زائد جس قیمت پر بیچوگے تو وہ اضافی رقم بیچنے والے کی ہوگی، اس طرح معاملہ اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگا کیونکہ ایسا معاملہ بعد میں نزاع (جھگڑے) کا سبب بن سکتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر دکاندار نے سائل کے دوست کو اپنی چیز بیچنے کا وکیل بنایا ہو اور اس کی اجرت باقاعدہ طور پر متعین نہ کی ہو، بلکہ یہ طے کیا ہو کہ ہزار روپے سے زائد جتنی بھی قیمت پروہ چیز بیچی جائے، تو وہ آپ کی ہوگی، تو ایسی صورت میں وکالت کی اجرت مجہول ہونے اور نزاع کا سبب بننے کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہ ہوگا۔
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:6، ص:5)
قال والإجارة الفاسدة على أحد عشر وجها۔۔۔۔والخامس إجارة السمسار لايجوز ذلك وكذلك لو قال بع هذا الثوب بعشرة دراهم فما زاد فهو لك وإن فعل فله أجر المثل۔ (النتف في الفتاوى للسغدي،كتاب الإجارة، إجارة السمسار، ج:2، ص:575)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں