بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سکول کے اندر عارضی طور پر جمعہ کی نماز ادا کرنا


سوال

 ہمارا ایک تعلیمی ادارہ ہے، جس میں بنین اور بنات کے الگ الگ سیکشن ہيں۔ ہم پردے كے لوازمات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنین اور بنات کے لیے الگ الگ "ٹائم ٹیبل" مقرر کیا ہواہے۔ اس وجہ سے ان دنوں میں بنین کی چھٹی ڈھائی بجے یعنی دو بجکر تیس منٹ پر ہوتی ہے۔ عام دنوں میں ہم ظہر کی نماز سکول میں ہی ادا کرتےہیں، لیکن مسئلہ جمعہ کی نماز کا ہے، کیونکہ ہمارے علاقے کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ڈیڑھ بجے یعنی ایک بجکر تیس منٹ پر ادا ہوتی ہے اور اس وقت ہماراتعلیمی سلسلہ جاری ہوتاہے۔ اس لیے ہم عارضی طورپر سکول کے اندر جمعہ کی نماز شروع کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ گرمیوں میں جب دن لمبے ہوجائیں گے توپھر" ٹائم ٹیبل " بھی تبدیل ہوگا۔ لیکن سکول کے اندر مسجد نہیں ہے، اور حفاظتی پہلو کی خاطر لوگوں کے آنے کے لیے اذن عام بھی نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسےسکول کے اندر جمعہ کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟جس میں نہ مسجد ہے اور نہ اذن عام ۔

جواب

واضح رہے کہ نماز جمعہ کےلیے مسجد شرط نہیں، اور نہ ہی ایسی جگہ شرط ہے جہاں پر پنجگانہ نماز ادا ہوتی ہو۔ تاہم  جمعہ کی صحت کے لیے منجملہ دیگر شرائط کے ایک بنیادی شرط یہ بھی  ہے کہ وہ جگہ شہر یا قریہ کبیرہ ہو۔ نیز جمعہ کی صحت کے لیے اذن عام کا ہونا بھی ضروری ہے، یعنی جہاں نماز جمعہ ادا کی جارہی ہو وہاں سب  لوگوں کو آنے کی اجازت ہو، تاہم اگر حفاظتی پہلو کی خاطر کسی جگہ لوگوں کو آنے سے روکا جائے تو وہ صحتِ جمعہ سے مانع شمار نہیں ہوگی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ ادارہ شہر یا قریہ کبیرہ میں واقع ہو، تو اگرچہ وہاں مسجد نہ ہو اور نہ وہاں پنجگانہ نماز کا اہتمام ہوتا ہو اورحفاظتی پہلو کی خاطرعام لوگوں کووہاں آنے سے روکا جاتاہو، پھر بھی جمعہ کی نماز قائم کرناجائز ہے۔ تاہم اگر اس علاقے کی کسی قریبی مسجد میں جاکر جمعہ کی نماز ادا کی جائے تو زیادہ ثواب کا باعث ہوگا۔

 

والمسجد الجامع ليس بشرط فيجوز في فناء المصر وهو ما التصل به معدا لمصاله من ركض الخيل و جمع العساكر والمنابضة ودفن الموتى وصلوة الجنازة ونحو ذلك.(غنية المستملي شرح منية المصلي، فصل في صلوة الجمعة، ص:245)

" لا تصح الجمعة إلا في ‌مصر ‌جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في ‌مصر ‌جامع ".(الهداية، كتاب الصلوة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:72)

(ومنها ‌الإذن ‌العام) وهو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا أبواب المسجد على أنفسهم وجمعوا لم يجز وكذلك السلطان إذا أراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار وأذن إذنا عاما جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص:148)

ولا يضر غلق باب القلعة لعدو أو ‌عادة ‌قديمة لأن الإذن العام حاصل لأهله وغلق الباب ليس لمنع المصلي ولكن عدم غلقه أحسن.(حاشية الطحطاوى على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ص:511)


فتویٰ نمبر : 10373/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں