بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

کسی علاقے کی خواتین کااکھٹے ہوکر میت کے لیے دعا یا بیمار کی عیادت کے لیے جانا


سوال

ہمارے ہاں جب محلے میں کسی کے گھر میں فوتگی ہوجاتی ہے یا کوئی بیمار ہوجاتا ہے، تو اس علاقے کی بعض عورتیں اکھٹے ہوکر اس گھر میں میت کے گهر تعزيت كےلیے دعائے مغفرت کی غرض سے یا بیمار کی عیادت کے لیے جاتی ہیں، حالانکہ وہ میت یا مریض ان جانے والی خواتین کا کوئی خاص رشتہ دار بھی نہیں ہوتا، البتہ نہ جانے کی صورت میں لوگوں کی طرف سے برا بھلا سننا پڑتاہے۔ بسا اوقات جب کسی دوسرے محلے میں فوتگی ہوجائے یا کوئی بیمار ہوجائے، تو وہاں بھی جاتی ہیں، جبکہ ان عورتوں کے ساتھ ان کا کوئی محارم بھی نہیں ہوتا۔ اس تفصیل کی روشنی میں دریافت طلب امور یہ ہیں:

1۔ کیا خواتین کے لیے اکٹھے ہوکر اپنے محلے يا دوسرے محلے میں میت کے گھر تعزیت  کے لیے دعائے مغفرت کی غرض سے جانا جائز ہے یا نہیں؟

2۔ کیا خواتین کے لیے اکٹھے ہوکر اپنے محلے يا دوسرے محلے میں کسی بیمار کی عیادت کے لیے جانا جائز ہے یا نہیں؟ بالخصوص اگر وہ بیمارشخص ان خواتین کے محارم میں سے نہ ہو۔

جواب

(1) اگر کوئی شخص وفات پا جائے تو اس کے لواحقین اور رشتہ داروں سے تعزیت کرنا اور ان کو صبر کی تلقین کرنا اور میت اگر مسلمان ہو تو اس کے حق میں دعائے مغفرت کرنا مستحب عمل ہے۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی کے گھر فوتگی ہوجائے تو اس علاقے کی خواتین کے لیے وہاں تعزیت  کے لیے جانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہ گھر سفر شرعی سے کم مسافت پر ہو، اورشوہر یا محارم کی اجازت سے ہواور آنے جانے میں کسی قسم کے فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو۔

(2) احادیث میں بیمار کی عیادت کی ترغیب دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے، کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں، ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کی جائے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر خواتین کے لیےآتے جاتے وقت کسی قسم کے فتنہ وفساد کا خطرہ نہ ہواور نہ بیمار یا اس کے اہل خانہ کے لیے تکلیف کا باعث ہو، تو پھرخواتین اپنے محارم کی اجازت سے اپنے محلے یا دوسرے محلے میں کسی بیمار شخص کی عیادت کے لیے چلی جائیں تو اس کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر وہ بیمار شخص ان عورتوں کے محارم میں سے نہ ہو تو اس کے گھر کی خواتین سے خیریت دریافت کرنے پر اکتفا کیا جائے۔

 

عن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أطعموا الجائع، وعودوا المريض، وفكوا العاني".(صحيح البخاري، كتاب المرضى، باب عيادة المريض، ج:5، ص:2139، رقم الحديث:5325)

 أن أبا هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌حق ‌المسلم ‌على ‌المسلم خمس؛ رد السلام، وعيادة المريض، واتباع الجنائز، وإجابة الدعوة، وتشميت العاطس».(صحيح البخاري، كتاب الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز، ج:2، ص:71، رقم الحديث:1240)

‌وتستحب ‌التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن.(رد المحتار مع الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز، باب في الثواب على المعصية، ج:2، ص:240)

التعزية لصاحب المصيبة حسن، كذا في الظهيرية، وروى الحسن بن زياد إذا عزى أهل الميت مرة فلا ينبغي أن يعزيه مرة أخرى، كذا في المضمرات. ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت ‌التعزية ويستحب أن يعم بالتعزية جميع أقارب الميت الكبار والصغار والرجال والنساء إلا أن يكون امرأة شابة فلا يعزيها إلا محارمها، كذا في السراج الوهاج.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز ۔ ۔ ۔ ، الباب السابع في الشهيد، ج:1، ص:167)

لأن المحرم يشترط للسفر، وما دون ثلاثة أيام ليس بسفر فلا يشترط فيه المحرم كما لا يشترط للخروج ‌من ‌محلة ‌إلى ‌محلة.(بدائع الصنائع، كتاب الحج، فصل  شرائط فرضية الحج، ج:2، ص:124)


فتویٰ نمبر : 6159/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں