بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

جرمانہ کے طور پر دعوت کرانا


سوال

ہم چار دوستوں نے   کھانے کی دعوت  طے کی کہ کل رات  اکٹھے  دعوت کرینگے لیکن ان میں سے دو دوست  غیر حاضر  ہوگئے کیا ہم  جرمانہ  کے طور پر ان سے دعوت کراسکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کا مال اس کی رضا مندی اور طیب نفس کے بغیر لینا اور استعمال کرنا حلال جائز نہیں ۔ اسی طرح مال کا استعمال نہ صرف روحانی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ اخلاقی اور معاشرتی طور پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق دو دوستو ں كا  دعوت سےغیر حاضر   ہو نے پرباقی دوستوں  کا ان سے جر مانہ     لینا ٹھیک نہیں ۔البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے کھلانا چاہیں  تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾۔(البقرة:188) 

عن أبى حُرَّةَ الرَّقاشِىَّ، عن عَمِّه أن رسولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال: "‌لا ‌يَحِلُّ ‌مالُ ‌امرئٍ ‌مُسلِمٍ ‌إلا ‌بطيبِ ‌نَفسٍ ‌مِنه"۔(السنن الكبرى للبيهقى، ‌‌باب من غصب جارية فباعها ثم جاء رب الجارية،رقم الحديث:11654)

‌لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد ‌بغير ‌سبب ‌شرعي.(رد المحتار على درالمختار، ‌‌باب التعزير،ج:7،ص:61)


فتویٰ نمبر : 6165/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں