بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

حرام مال کھانے کا حکم


سوال

ميں بلوچستان ايف سی  میں ملازم ہوں کچھ دن پہلے  ایران سے پاکستان کی طرف غیر قانونی طور پرایک شخص  گاڑی میں  گائیں لا رہا تھاہمارے ایک ساتھی  نے اس پر فائر کی تو اس میں ایک گائے  زخمی ہوگئ تو اس کو ہمارے ساتھیوں نے ذبح کیا  اور کھا لیا تو اس کا کھانا شرعاً کیسا ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے حرام مال کو اصل مالک کی طرف لوٹانا ضروری ہے لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو پھر اس مال کو بلا نیت ثواب فقرا اور مساکین پر صدقہ کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق  مالک کی اجازت  اور طیب نفس کے  بغیر اس کی گائے کو  ذبح  کر کے  اس کا گوشت کھانا  جا ئز نہیں   جن ساتھیوں نے اس کو کھا یا ہے  تو  مالک کو اس کی قیمت لوٹانا ضروری ہے اگر مالک معلوم نہ ہو سکے تو اس کی قیمت مالک  کے نام پرثواب کی نیت سے  فقرااور مساکین پر صدقہ کریں۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾۔(البقرة:188) 

عن أبى حُرَّةَ الرَّقاشِىَّ، عن عَمِّه أن رسولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال: "‌لا ‌يَحِلُّ ‌مالُ ‌امرئٍ ‌مُسلِمٍ ‌إلا ‌بطيبِ ‌نَفسٍ ‌مِنه"۔(السنن الكبرى للبيهقى، ‌‌باب من غصب جارية فباعها ثم جاء رب الجارية،رقم الحديث:11654)

‌لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد ‌بغير ‌سبب ‌شرعي.(رد المحتار على الدرالمختار، ‌‌باب التعزير،ج:7،ص:61)

والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله۔(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية ، ج:5، ص:349)

لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔(ردالمحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة ، فصل فی البیع، ج:9،  ص:553)


فتویٰ نمبر : 6166/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں