بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

كسی كا كاروباری برانڈ اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا


سوال

میں سپیئر پارٹس کا کام کرتا ہو ں اور میں ایک importer بھی ہو ں،چائنا سے پاکستان تک ہول سیل Business کا ، ایک برانڈ ہے سپیئر پارٹس میں ، جسکا نام TURBO ہے ، اور یہ برانڈ تھوڑا پرانا بھی ہے یہ کسی کراچی شہری کا ہے وہ انڈیا سے اس مال کو منگواتا ہے اور ہم لوگ اسی نام سےچائنا سے چائنا کا مال اوریجینل منگواتے ہیں  جوکہ سستا پڑتا ہے لوگوں کو بھی پتہ ہے یہ چائنا کا مال ہے اور اچھی کوالٹی بھی ہے لیکن انڈیا کا مال بہت مہنگا ہونے کے وجہ سے لوگ نہیں خریدتے کوالٹی دونوں کی same ہے ، اور مالک کی طرف  سےاجازت نہیں ہے، اس نام پر مال منگوانےکی ۔ایک دو بار آکر  لوگوں پر FIR بھی کاٹا ہے لیکن اب اس کے بس سے یہ بات نکل گئی کہ لوگوں کو روکے کیونکہ انڈین مال مہنگا ہونے کی وجہ سے  لوگ خریدتے بھی نہیں ،اب  لوگ ظاہرا اس مال کو منگواتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ چھپاتے ہیں، تو اب سوال یہ ہے  کہ میں نے اس نام سے مال منگوایا ہے چائنا سے best quality میں ، تو کیا اسکی آمدنی حرام ہے یا طریقہ غلط ہے کیونکہ مجھے اپنی آمدنی کی فکر ہے میری کوشش ہے کہ میں اپنےآپ کو ایک ایک روپیہ حرام سے بچالو ں؟

جواب

جس کمپنی  یا شخص نےاپنا  برانڈحکومت کے ساتھ باقاعدہ قانونی طور پر رجسٹرڈ کروا لیا ہو ،تو وہ  قانونی طور پراس کی   پراپرٹی  شمار ہوتی ہے، چنانچہ ایسے برانڈ کو  مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا شرعا  جائز نہیں  ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب اصل مالک کی اجازت نہیں ہے تو اس کا برانڈاس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے سے گناہ گار ہوگا ،البتہ اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہ ہوگی۔

 

غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح ۔(الفتاوى الهندية، كتاب الغصب، ،ج:5،ص:142)

والتصرف في ملك الغير من غير إذنه محظور في الأصل.(بدائع الصنائع،فصل في الشرائط اللتي ترجع إلی المقسوم له ج:9،ص:153)


فتویٰ نمبر : 3750/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں