بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عشر ميں غلے کی بجائے قیمت دینا


سوال

زمین کی پیداوار میں عشر ادا کرتے وقت عشر کے غلے کو اپنے پاس رکھ کر اس کی قیمت فقراء کو دے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عشر ادا کرتے وقت مالک کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے، کہ چاہے تووہ پیداوار میں سے عشر یا نصف عشرادا کرے اور چاہے تو اس کی قیمت ادا کرے، تاہم اگر قیمت کے حساب سے عشر  یا نصف عشر ادا کرنا  چاہتا ہے  تو بازاری قیمت لگا کراس کو فقراء میں تقسیم کرے گا ۔ 

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص زمین کے پیداوار کاعشرادا کرتے وقت عشر کے غلے کو اپنے پاس رکھ کر اس کی قیمت فقراء کو دے تو یہ جائز ہے۔

 

‌ويجوز ‌دفع ‌القيم في الزكاة " عندنا وكذا في الكفارات وصدقة الفطر والعشر والنذر.(الهداية، كتاب الزكوة، فصل: وليس في الفصلان والحملان والعجاجيل صدقة،ج:1، ص:100)

‌وأما ‌صفة ‌الواجب ‌فالواجب ‌جزء من الخارج؛ لأنه عشر الخارج، أو نصف عشره وذلك جزؤه إلا أنه واجب من حيث إنه مال لا من حيث إنه جزء عندنا حتى يجوز أداء قيمته عندنا.(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل صفة الواجب،ج:2، ص:63)


فتویٰ نمبر : 10368/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں