بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ایام عادت کے مطابق حیض گزارنے کے بعد پانچویں دن دوبارہ خون آنا


سوال

ایک عورت کی بیماری کی عادت سات دن تھی، سات دن حیض گزارنے کے بعد پانچویں دن دوبارہ خون شروع ہوا،جوکہ حیض بند ہونے کے پندرہ دن گزرنےکے بعد بھی جاری ہے، یہ عورت حیض کے سات دن گزرنے کے بعد نماز پڑھتی ہے،تو سوال یہ ہے کہ اب یہ عورت طہر کی کم سے کم مدت(پندرہ دن) گزرنے کے بعد نماز چھوڑ دے یا ایام عادت تک انتظار کرے؟

جواب

واضح رہے کہ حیض اورطہرکے حوالے سے عورتوں کی جو عادت مقرر ہوتی ہے شریعت میں اس کو اعتبار دیا جاتا ہے، اس لیے اگر کسی عورت کی عادت مقرر ہواور وہ اس کے مطابق حیض گزارے اور پھر پندرہ دن سے پہلے اس کو خون آئے  تو یہ خون استحاضہ شمار ہوگااوراس دوران وہ نماز ادا کرتی رہے گی یہاں تک کہ عادت کے مطابق دوبارہ اس کے بیماری کے ایام آجائیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس عورت کےحیض کی عادت سات دن تھی اور سات دن حیض گزارنے کے بعد پانچویں دن دوبارہ خون شروع ہواتو یہ عورت پاکی کے ایام کی عادت کےمطابق نماز پڑھے گی اور حیض کی عادت کے ایام کے مطابق نماز نہیں پڑھےگی۔

 

" (وأما) صاحبة العادة في الحيض إذا كانت عادتها عشرة فزاد الدم عليها فالزيادة استحاضة، ‌وإن ‌كانت ‌عادتها ‌خمسة فالزيادة عليها حيض معها إلى تمام العشرة لما ذكرنا في المبتدأة بالحيض، وإن جاوز العشرة فعادتها حيض، وما زاد عليها استحاضة لقول النبي صلى الله عليه وسلم «المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها» أي: أيام حيضها.(بدائع الصنائع، كتاب الطهارة، فصل في أحكام الحيض والنفاس، ج:1، ص:297)

"الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لم يفصل وكثير من المتأخرين أفتوا بهذه الرواية؛ لأنها أسهل على المفتي والمستفتي ... فإن لم يجاوز العشرة فالطهر والدم كلاهما حيض سواء كانت مبتدأة أو معتادة وإن جاوز العشرة ففي المبتدأة حيضها عشرة أيام وفي المعتادة معروفتها في الحيض حيض والطهر طهر. هكذافي السراج الوهاج." (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء،الفصل الأول في الحيض، ج:1 ،ص: 37)

"(ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير."(ردالمحتار على الدرالمختار ،باب الحيض،ج:1،ص:298)


فتویٰ نمبر : 10370/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں