بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 18/08/2026

دارالافتاء

 

سٹیٹ لائف طیب تکافل اور پاک قطر تکافل کا شرعی حکم


سوال

 سٹیٹ لائف طیب تکافل اور پاک قطر تکافل کا کیا حکم ہے؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عالمی معاشی نظام کا بیشتر حصہ غیر مسلموں کے ہاتھوں تکمیل شدہ ہے، اس لیے اس میں اسلامی اصولوں کی رعایت نہیں رکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ نظام سود، قمار، غرر، اور بیع باطل وغیرہ کئی خرابیوں پر مشتمل ہے۔ چونکہ معیشت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، اس لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے علماے کرام اس کے متبادل کے طور پر اسلامی معاشی نظام کی تشکیل کی کوششیں کر رہے ہیں اور الحمد للہ بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، چنانچہ روایتی بنک کے متبادل کے طور پر اسلامک بینکنگ، اور انشورنس کے متبادل کے طور پر تکافل انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہماری معلومات کی حد تک تکافل کے حوالے سے ابھی تک وہ معیاری سسٹم وجود میں نہیں آیا ہے جس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ فتوی دیا جاسکے، اس لیے فی الحال ہماری رائے یہ ہے کہ جب تک کوئی قانونی ضرورت نہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے، تاہم جہاں کہیں انشورنس قانونی ضرورت ہو تو اس صورت میں عام انشورنس کی بجائے اسلامی تکافل کو ترجیح دینی چاہیے۔

 

عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه،..." (صحيح البخاري، كتاب الأيمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم الحديث:52، ج:1، ص:23)


فتویٰ نمبر : 3766/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں