بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

شاگرد کو تادیبا مارنے کا حکم


سوال

میں ایک مدرسے میں مدرس ہوں  میں طلباء کرام سے سبق پوچھتا ہوں اگر بار بار غلطی دہرائے تو سزا دیتا ہوں .کیا سزا دینی چاہیے یا نہیں ؟ اگر دینی چاہیے تو کتنی سزا دی جائے ؟ اور اگر شاگرد نے جواب ٹھیک دیا اور استاد کو غلط فہمی ہوگی اور شاگرد کو سزا دی تو اپنا گناہ معاف کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ شاگرد کو تادیباً مارنے  کی محدود اجازت پائی جاتی ہے ،لیکن اس میں شفقت کا جذبہ مضمر ہونا لازم ہے ،یعنی اس سے طالب علم کو صرف تنبیہ  اور اس کی  اصلاح  مقصود  ہو اور اسے کوئی نقصان نہ پہنچے ۔تاہم موجودہ دور میں  عالمی سطح  پر  بچوں کی مار پیٹ  کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ،اس کو تعذیب سمجھتا ہےاور بدنامی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے  اس لیے بچوں  کو جسمانی سزا دینے کی بجائے اس سےجان بچانا بہتر ہے۔ نیز مارنے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہے ،اس لیے "سدالذرائع"کے ضابطہ کو سامنے رکھتے ہوئے   بچوں کے مارنے سے احترزا کرنا چاہیے ۔نیز  اگرکسی استاد  نے غلط فہمی   میں  شاگرد کو  بغیر غلطی  کےمارا ہو  تو اس سے اپنی غلطی پر معافی مانگ لے۔

 

‌درء ‌المفاسد ‌أولى ‌من ‌جلب المنافع.أي: إذا تعارضت مفسدة ومصلحة يقدم دفع المفسدة على جلب المصلحة، فإذا أراد شخص مباشرة عمل ينتج منفعة له، ولكنه من الجهة الأخرى يستلزم ضررا مساويا لتلك المنفعة أو أكبر منها يلحق بالآخرين، فيجب أن يقلع عن إجراء ذلك العمل درءا للمفسدة المقدم دفعها على جلب المنفعة.( درر الحكام في شرح مجلة الاحكام، المادة:٣٠ )


فتویٰ نمبر : 6172/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں