بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

دل میں کفریہ وسوسہ آجانا اور اس کو اچھا سمجھنا


سوال

اگر کسی شخص کے دل میں کفریہ وسوسہ آجائے اور وہ اس کو اچھا سمجھے، تو کیا ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگا یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے غیراختیاری طور پر دل میں جو وساوس آجاتے ہیں، ان پر کوئی مؤاخذہ اور گناہ نہیں ہوتا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص کے دل میں کفریہ وسوسہ آجائے اورغیراختیاری طور پر وہ اس کو اچھا سمجھے، تواس سے وہ دائرہ اسلام سے خارج متصور نہ ہوگا۔ نیز جب دل میں  کفریہ وسوسہ آجائے تو اس کی طرف توجہ نہ دینی  چاہیے، اور کسی اچھے عمل میں مشغول ہوجانا چاہیے۔  کیونکہ یہ ایمان کی علامت ہے، ایک موقع پر صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس قسم کے وسوسوں کا تذکرہ کیا اوراپنی پریشانی ظاہر کی، تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا واقعی تم کو ایسے وسوسے آتے ہیں؟ صحابہؓ نے عرض کیا: جی ہاں،ایسے وساوس آتے ہیں۔ آپﷺنےفرمایا: "یہ تو صریح  ایمان ہے"۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها، ما لم تعمل أو تكلم". (صحيح البخاري، ‌‌باب: الخطأ والنسيان في العتاقة والطلاق ونحوه، ولا عتاقة إلا لوجه الله، ج:3، ص:145)

عن أبي هريرة قال: جاء ناس من أصحاب النبّي صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه: إنا نجد في انفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: "أوقدوجدتموه" قالوا: نعم قال: "ذلك صريح الإيمان"۔ وعنه، قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: "يأتي الشيطان أحدكم،فيقول:من خلق كذاو كذا؟حتى يقول له: من خلق ربك؟ فإذا بلغ ذلك؛ فليستعذ بالله ولينته". (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الوسوسة في الإيمان، ج1، ص:17)

وقال الحفني ملخصاً لكلام السبكي الكبير في الحلبات: إن المراتب خمسة: هاجس وخاطر وحديث نفس وهم وعزم، فالشيء إذا وقع في القلب ابتداءً ولم يحل في النفس سمي ''هاجساً''، فإذا كان موفقاً ودفعه من أول الأمر لم يحتج إلى المراتب التي بعدها: فإذا جال أي تردد في نفسه بعد وقوعه ابتداء ولم يتحدث بفعل ولا عدمه سمى ''خاطراً''، فإذا حدثته نفسه بأن يفعل أو لا يفعل على حد سواء من غير ترجيح لأحدهما على الآخر سمي ''حديث نفس''، فهذه الثلاثة لا عقاب عليها إن كانت في الشر، ولا ثواب عليها إن كانت في الخير، فإذا فعل ذلك عوقب أو أثيب على الفعل لا على الهاجس والخاطر وحديث النفس، فإذا حدثته نفسه بالفعل وعدمه مع ترجيح الفعل لكن ليس ترجيحاً قوياً بل هو مرجوح كالوهم سمي ''هماً''، فهذا يثاب عليه إن كان في الخير، ولا يعاقب عليه إن كان في الشر، فإذا قوي ترجح الفعل حتى صار جازماً مصمماً بحيث لا يقدر على الترك سمي ''عزماً''، فهذا يثاب عليه إن كان في الخير، ويعاقب عليه إن كان في الشر.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، باب في الوسوسه، ج:1، ص:141)


فتویٰ نمبر : 10394/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں