بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حالت سفر میں فوت شدہ نمازوں کی قضا


سوال

اگر کسی شخص سے حالت سفر میں کچھ نمازیں فوت ہوگئی ہوں اور وہ بعد میں گھر آکر ان کی قضا لانا چاہے، تو کیا اس کے لیے دو رکعت پڑھنا  کافی ہے یا  مکمل چار رکعت؟

جواب

فوت شدہ نمازوں کی قضا اسی صفت کے ساتھ ضروری ہے جس صفت کے ساتھ وہ فوت ہوئی ہوں، چنانچہ اگرمسافر شخص سفر کی حالت میں ان نمازوں کی قضا لانا چاہے جو حالتِ حضر میں اس سے فوت ہوئی ہوں، تو وہ چار رکعت  پڑھے گا۔ اور اگر مقیم شخص دورانِ اقامت سفر کے دوران فوت ہونے والی نمازوں کی قضا لانا چاہے توقصر والی نماز پڑھے گا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص سے حالت سفر میں کچھ نمازیں فوت ہوگئی ہوں اور وہ بعد میں گھر آکر ان کی قضا لانا چاہے، تو وہ قصر کرے گا۔

 

ومن حكمه أن الفائتة تقضي على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة فيقضي مسافر في السفر ما فاته في الحضر من الفرض الرباعي أربعا والمقيم في الإقامة ما فاته في السفر منها ركعتين.(الفتاوى الهندىة، كتاب الصلاة، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، ج:1، ص:121)


فتویٰ نمبر : 10365/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں