بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی اجازت سے نمازِ جنازہ پڑھانے کی صورت میں بھائی کے لیےنمازِ جنازہ دوبارہ پڑھانا


سوال

اگر شوہر فوت ہوجائے اور بیوی کی اجازت سے نماز جنازہ ایک مرتبہ پڑھائی جائے، لیکن بھائی وغیرہ دور ہونے کی وجہ سے دیرسے پہنچیں اور نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں اور وہ دوبارہ نماز جنازہ پڑھانا چاہے، تو کیا شرعا اس کے لیے یہ جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر ولی کے علاوہ کسی اور کی اجازت سے ایک مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھایا گیا ہواور ولی اس میں شریک نہ ہواہوں، تو پھر ولی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ نمازِ جنازہ دوبارہ  پڑھائے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر بیوی کی اجازت سے نماز جنازہ  ایک مرتبہ پڑھایا گیا ہواورمیت کا بھائی اس میں شریک نہ ہواہو، توچونکہ بیوی ولی شمار نہیں ہوتی، اس لیے  بھائی کے لیے نماز جنازہ دوبارہ پڑھانے کی اجازت ہے۔

 

وإن صلى الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده " ‌لأن ‌الفرض ‌يتأدى بالأولى والتنفل بها غير مشروع .(الهداية، كتاب الصلاة، باب الجنائز، ج:1، ص:90)

(فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره إن شاء لأجل حقه لا لإسقاط الفرض؛ ولذا قلنا: ليس لمن صلى عليها أن يعيد مع الولي لأن تكرارها غير مشروع (وإلا) أي وإن صلى من له حق التقدم كقاض أو نائبه أو إمام الحي أو من ليس له حق التقدم وتابعه الولي (لا) يعيد لأنهم أولى بالصلاة منه.(الدرا لمختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازه، ج:2، ص:222)


فتویٰ نمبر : 10363/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں