بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مالک کی اجازت کے بغیر مستری کے لیے گاڑی کے پرانے" پرزے " فروخت کرنا


سوال

ایک شخص ہے، جو گاڑیوں کی مرمت کا کام کرتاہے، جب کوئی شخص اپنی گاڑی ٹھیک کرانے کے لیے لاتا ہے، تووہ اس کی  گاڑی سے پرانے  پرزے نکال کر نئے  لگاتاہے، لیکن پھر وہ پرانے "پرزے" گاڑی کے مالک کو واپس نہیں کرتا اورکسی کباڑ وغیرہ میں فروخت کرکے پیسے حاصل کرتاہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا گاڑی کے مستری کے لیے مالک کی اجازت کے بغیراس کی  گاڑی کے پرانے پرزے فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت ِ مطہرہ کی روسے کسی شخص کا مال اس کی اجازت اور طیب نفس کے بغیر لینا اور فروخت کرنا جائز نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق گاڑیوں کی مرمت کرنے والے مستری کے لیے ما لک کی اجازت کے بغیر اس کی گاڑی کے پرانے "پرزے" خود استعمال کرنا یا کسی دوسرے شخص کو فروخت کرکے پیسے حاصل کرنا جائز نہیں۔

 

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "‌لا ‌يحل ‌مال رجل مسلم لأخيه إلا ما أعطاه بطيب نفسه". (السنن الكبرى للبيهقي، كتاب قتال أهل البغي،  ج:17، ص:53، رقم الحديث:16836)

لا يجوز لأحد من المسلمين ‌أخذ ‌مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية، كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعذير، فصل في التعذير، ج:2، ص:167)


فتویٰ نمبر : 3713/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں