بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
رمضان کے مہینے میں خواتین سے قضا ہونے والے روزوں کے متعلق چند مسائل
سوال
رمضان المبارک کے مہینے میں خواتین کے لیے مخصوص ایام یعنی ماہواری کے دنوں میں نماز پڑھنے اور روزے رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ رمضان کے بعد بعض خواتین فوت شدہ نمازوں کی طرح روزوں کی بھی قضا نہیں لاتی۔ اور بعض تو سن بلوغت سے ليكر سالہا سال تک بغیر کسی شرعی عذر کے فوت شدہ روزوں کی قضا نہیں رکھتیں۔ اس تمہید کی روشنی میں دریافت طلب اموریہ ہیں:
1۔ رمضان کے مہینے میں جو خواتین مخصوص ایام میں روزے نہیں رکھتی ہیں، کیا ان کے لیے بعد میں قضا روزے رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟
2۔ اگر كسی خاتون کی عمر زیادہ ہو اور اس کو فوت شدہ روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو، تو وہ کتنے روزے قضا رکھے گی؟
3۔ اگر کوئی خاتون ان روزوں کی قضا لانے سے پہلےایسی بیمار ی میں مبتلا ہوجائے ،کہ نہ روزہ رکھنے پر قادر ہو اور نہ ہی دوبارہ صحت یابی کی امید ہو، تو اس حالت میں اس کے لیے شرعا کیا حکم ہے؟
4۔ اگر کوئی خاتون بغیر کسی بیماری وغیرہ کے، ان روزوں کی قضا لانے سے پہلے وفات پاجائے، تو کیا قیامت کے دن اس سے مؤاخذہ ہوگا یا نہیں؟
جواب
(1) خواتین کے لیے حیض اور نفاس کے ایام میں نماز پڑھنے اور رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی اجازت نہیں، تاہم بعد میں روزوں کی قضا ضروری ہے نمازوں کی قضا نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق رمضان کے مہینے میں جوخاتون مخصوص ایام میں روزے نہ رکھے، اس کے لیے بعد میں ان روزوں کی قضا لانا ضروری ہے۔
(2) اگر کسی خاتون کے ذمے رمضان المبارک کے روزوں کی قضا باقی ہو، جب کہ اس کو تعداد معلوم نہ ہو، توغور وفکر کرکے ایک تعداد متعین کرکے اتنے روزے رکھے، اگر یقینی طور پر تعداد متعین کرنا مشکل ہو، تو ظن غالب کا اعتبار کرے، یعنی جتنی تعداد پرغالب گمان ہو، اتنے روزے رکھے اور احتیاطا کچھ زیادہ رکھے۔
(3) اگر کوئی خاتون ان روزوں کی قضا لانے سے پہلے ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے، کہ نہ روزہ رکھنے پر قادر ہو اور نہ ہی دوبارہ صحت یابی کی امید ہو، تو ہر روزہ کے بدلے فدیہ دے،جس کی مقدار ایک صدقہ فطر ہے۔ اگرخود فدیہ نہ دیاتو اس پر وصیت کرنا فرض ہے کہ میرے ذمے اتنے روزے باقی ہیں، ان کا فدیہ میرے مال سے ادا کردیا جائے۔
(4) روزہ ہر ایک مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور اس میں کمی کوتاہی کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ لہذا اگر کوئی خاتون بغیر کسی بیماری وغیرہ کے رمضان میں فوت شدہ روزوں کی قضا نہ لائے، اور نہ فدیہ دینے کی وصیت کرے، تووہ گناہ کبیرہ کا مرتکب شمار ہوگی اورقیامت کے دن اللہ تعالی کے ہاں جوابدہ ہوگی، تاہم رشتہ دار اس کے لیے دعائے مغفرت مانگتے رہیں تو اللہ تعالی کے رحم سے کوئی بعید نہیں کہ اس کو معاف کردے۔
عن معاذة؛ قالت: سألت عائشة فقلت: ما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة؟ فقالت: أحرورية أنت؟ قلت: لست بحرورية. ولكني أسأل. قالت: كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة.(صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب وجوب قضا ء الصوم ۔ ۔ ۔ ، ج:1،ص:265، رقم الحديث:335)
(ومنها الحيض والنفاس) ، وإذا حاضت المرأ ة ونفست أفطرت كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأ عذار۔ ۔ ۔ ، ج:1، ص: 207)
من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء. (حاشية الطحطاوى على مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:447)
المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصوم، فصل في العوارض ۔ ۔ ۔ ، ج:2، ص:427)
ولو فات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه ۔ ۔ ۔ فإن برئ المريض أو قدم المسافر، وأدرك من الوقت بقدر ما فاته فيلزمه قضاء جميع ما أدرك فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية.(الفتاوى الهندىة، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار۔ ۔ ۔، ج:1، ص:207)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں