بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گندم پیس کر اسی میں سے اجرت لینا


سوال

 میری ایک چکی ہے، میں  نے  یہ مقرر کیا ہے کہ ایک من گندم میں ایک کلو گندم  بطور اجرت لوں گا ۔میں ان کو پیس کر دیتا ہوں اور ایک کلو بطور اجرت لیتا ہوں کیایہ  صورت جائز ہے؟ نیز اسی طرح تھریشر کا مسئلہ بھی ہے؟

جواب

گندم پیسنے کے عوض اسی آٹے کا کچھ حصہ بطور اجرت مقرر کرنا اجارہ فاسدہ ہے کیونکہ  اس معاملہ سے منع کیا گیا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر  گندم پیسنے سے پہلے اسی گندم سےبطور اجرت  کچھ حصہ الگ کردیا جائے اور وہ اجرت میں دے دیا جائے تو یہ جائز ہے۔او رتھریشر والوں کو گندم صاف کرنے کے بعد جو گندم اجرت میں دیا جاتاہےاگر وہ معلوم ومتعین ہو مثلاً: 10من وغیرہ  ، یا پھر ایسا تناسب مقررہوجس سے اجرت کی مقداربعد میں متعین ہو جائےاورنزاع پیدا نہ ہوجیسے کل گندم کا دسواں حصہ،تو ایسی صورت میں مذکورہ معاملہ جائز ہو گا ،اور اگر اجرت معلوم  نہ ہواور نہ ہی وہ فیصدوتناسب  کے اعتبار سے مقررکیا گیا ہو تو پھر اجرت کی جہالت کی وجہ سے عقد اجارہ جائز نہ ہو گا ،چنانچہ تھریشر والےکو اجرت مثل دی جائی گی۔

 

وكذا إذا استأجر حمارا يحمل عليه طعاما بقفيز منه فالإجارة فاسدة، لأنه جعل الأجر بعضما يخرج من عمله فيصير في معنى قفيز الطحان، وقد نهى النبي عليه الصلاة والسلام عنه وهو أن يستأجر ثورا ليطحن له حنطة بقفيز من دقيقه.( البناية شرح الهداية،ج:10،ص:298)

صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد ‌والحيلة ‌في ‌ذلك ‌لمن ‌أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه،ج:4،ص:444)

ولا تصح حتى تكون الأجرة معلومة، والأجرة معلومة لما روينا،ولأن الجهالة في المعقود عليه، وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن،والمثمن في البيع.(الهداية، كتاب الإجارة، ج:3، ص:294)


فتویٰ نمبر : 3720/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں