بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نمازه جنازه میں تین تکبیریں پڑھ کر سلام چوتھی تکبیر کا بدل بننا


سوال

نماز جنازہ میں کیا تین تکبیریں پڑھ سکتے ہیں؟ اور کیاسلام چوتھی تکبیر کا بدل بن سکتا ہے؟ مدلل جواب چاہئے۔

جواب

 نماز جنازہ میں چاروں تکبیریں رکن کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں سے ہر تکبیر رکعت کے قائم مقام ہے، لہذا جس  طرح نماز ایک رکعت چھوڑنے سےفاسد ہوجاتی ہے، اسی طرح نماز جنازہ  بھی  کوئی ایک تکبیر چھوڑنے سے فاسد ہوجاتی ہے۔نیز سلام  تکبیر کا قائم مقام نہیں بنتا، کیونکہ  سلام نماز سے فارغ ہونے  کےلیے مشروع کیا گیا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق نماز جنازہ میں تین تکبیروں پر اکتفا کرنا جائز نہیں اس کے بعد اگر چوتھی تکبیر نہیں پڑھی اور سلام پیھرا تو نماز جنازہ ادا نہ ہوگی اور  سلام  چوتھی تکبیر کا بدل نہیں بنے گا۔

 

ولأن ‌كل ‌تكبيرة ‌من ‌هذه ‌الصلاة قائمة مقام ركعة، بدليل أنه لو ترك تكبيرة منها تفسد صلاته، كما لو ترك ركعة من ذوات الأربع.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في كيفية الصلاة على الجنازة،ج:2 ،ص:344)

ويسلم تسليمتين بعد الرابعة ‌لأنه ‌جاء ‌أوان ‌التحلل وذلك بالسلام. (المبسوط للسرخسي، باب غسل الميت، ج: 2، ص: 58)


فتویٰ نمبر : 10362/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں