بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نقد روپے لے کر زمین رہن رکھنا


سوال

ہمارے علاقہ میں پہلے سے یہ معاملہ چلا آرہاہے کہ ایک آدمی مثلاً:زیدکو دولاکھ روپے کی ضرورت ہے تو زید ،بکر سے کہتاہے کہ یہ میری زمین ہے، اتنے کنال آپ کو دیتاہوں،آپ مجھے دولاکھ نقد دے دیں  اور جب میرے پاس پیسے آجائیں تو آپ کے دولاکھ واپس کروں گا،اورآپ  زمین مجھے واپس دو گے۔نیز زید بکرکو زمین حوالہ کرنے ساتھ یہ اختیار  دیتاہے کہ آپ اس زمین سے جوبھی نفع حاصل کرنا چاہیں کرسکتےہیں۔تو اب پوچھنا یہ ہے : 1۔کہ اس طرح معاملہ کرناشرعا ًجائزہے یا نہیں؟ 2۔آیایہ صورت ”بیع الوفاء“ میں داخل ہے یا نہیں ؟ 3۔اگر داخل ہے تو اس میں کچھ گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں؟ 4۔اور اس کی جائز صورت ہوسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

مرتہن کے لیےمرہونہ چیز سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہے،خواہ راہن کی اجازت سے ہو یا اس کی اجازت کے بغیر،خواہ عقدِ رہن میں مشروط ہو یا نہ ہو  ۔کیونکہ راہن قرض کی وجہ سے مرہونہ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے ،اگر قرض نہ ہوتا تو وہ اجازت نہ دیتا  لہذا یہ قرض پر منفعت حاصل کرنے کی وجہ سے سود کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔

صورت  مسئولہ  میں اگر کوئی شخص نقد روپے لے کر  زمین  دوسرے شخص کو حوالہ کرےاور یہ کہے کہ  جب بھی میرےپاس پیسے آئیں گے،تو آپ  زمین مجھے  واپس کر یں گے اور دوسرے شخص کواس زمین سے ہر قسم کا نفع اٹھا نے کا اختیار ہو تو یہ جائز نہیں،اس لیے کہ یہ رہن سے نفع اٹھانا ہے۔

مذکورہ صورت بیع الوفا میں داخل نہیں،کیوں کہ بیع الوفا اس عقد کو کہا جاتا ہے کہ کوئی شخص کسی پر کوئی چیز اس شرط کے ساتھ فروخت کرے  کہ  کچھ وقت بعد  وہی چیز خریدار واپس اس فروخت کنندہ پر فروخت  کرے گا۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ خریدو فروخت کا معاملہ نہیں ہوا اس لیے یہ بیع الوفا نہیں۔

 

(لا انتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر، وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا، وقيل إن شرطه كان ربا وإلا لا.(قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح:وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، قال ط: قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع وهذا أمر عظيم۔(الدرالمختار مع ردالمحتار ، كتاب الرهن ، ج: 10 ص: 83)

وبيع الوفاء ذكرته هنا تبعا للدرر: صورته أن يبيعه العين بألف على أنه إذا رد عليه الثمن رد عليه العين، وسماه الشافعية بالرهن المعاد، ويسمى بمصر بيع الأمانة، وبالشام بيع الإطاعة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:276-280)


فتویٰ نمبر : 3733/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں