بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ہنڈی کا حکم


سوال

غیر قانونی حوالہ جس کا نام ہنڈی ہے اس کا شریعت میں کیا حکم ہے ؟

جواب

کسی غیر رجسٹرڈ شخص یا ادارہ کی وساطت سے ایک ملک کی کرنسی کو دوسرےملک کی کرنسی سے تبدیل کر کے ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجنا ہنڈی کہلاتا ہے،چونکہ یہ دو مختلف کرنسیوں کا تبادلہ ہےاس لیے اس میں کسی ایک کرنسی پر مجلس عقد میں قبضہ کرنا ضروری ہے، تاکہ بیع الکالی بالکالی (قرض کے بدلے قرض کی بیع) نہ ہو، جو شرعا ممنوع ہے۔

نیز ہنڈی کا کاروبار چونکہ ملکی قانون کی رو سے ممنوع ہے،اور جو ملکی قانون شریعت کے اصول سے متصادم نہ ہو، اور  مفاد عامہ سے متعلق ہو، اس کی پاسداری شرعا بھی ضروری ہوتی ہے، اس لیے قانون کی پاسداری کی خاطر رقوم کی ترسیل کے لیے ہنڈی کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

 

عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة». (صحيح البخاري، كتاب الأحكام، باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية، رقم الحديث:7144، ج:2،ص:1075)

لو باع الفلوس بالفلوس أو بالدراهم أو بالدنانير فنقد أحدهما دون الآخر جاز.(البحرالرائق، كتاب البيع، أبواب السلم، ج:6،ص:219)

لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالىء بالكالىء. (الهداية، كتاب البيع، مسائل منثورة، ج:3،ص:111)


فتویٰ نمبر : 6153/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں