بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ریزرو فنڈ رکھنے والی کمپنی کے شیئرز خریدنا


سوال

  میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کمپنی منافع کا کچھ حصہ (ریزرو فنڈ) احتیاطی کے طور پر رکھتا ہو اور باقی نفع  شیئر ہولڈر ز کے درمیان تقسیم کرتا ہو تو ایسے کمپنی کے شئیر ز خرید نا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کمپنی شرکت کی ایک جدید قسم ہے، عموماً کمپنیاں اپنی  پالیسی کے مطابق نفع کا کچھ حصہ مستقبل میں نقصان کی تلافی کے لیے رکھتی ہیں، اور شیئرز ہولڈر کو اس سے آگاہ رکھتی ہے، اس ریزرو فنڈ میں تمام شیئرز ہولڈرز کا اپنے  شیئرز کے مطابق حصہ ہوتا ہے، کمپنی ختم ہونے کے بعد دیگر اثاثوں کی طرح اس کو بھی شرکا  کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس کمپنی کے شیئرز خریدتا ہے یا فروخت کرتا ہے تو چونکہ شیئر کمپنی کے دیگر اثاثوں کی طرح ریزرو فنڈ  کی ملکیت کا بھی نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے خرید وفروخت میں یہ فنڈ بھی ضمناً شامل ہوتا ہے۔

اس لیے ایسے کمپنی کے شیئرز خریدنا بھی جائز ہے، بشرط یہ کہ شیئرز کی خرید و فروخت کی دیگر شرائط بھی موجود ہو۔

 

‌‌كتاب الشركة(هي عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح وحكمها الشركة في الربح.)(الدرالمختار، کتاب الشرکة، ج:1، ص:230)

شركة المساهمة:وهذه الشركة جائزة شرعا؛ لأنها شركة عنان، لقيامها على أساس التراضي، وكون مجلس الإدارة متصرفا في أمور الشركة بالوكالة عن الشركاء المساهمين، ولا مانع من تعدد الشركاء.(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي،ج:5،ص: 3975)


فتویٰ نمبر : 4031/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں