بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

داماد کا سسر اور سالی کو زکوۃ دینا


سوال

میرا سسر غریب ہے اور  بیٹے اس کو خرچہ بھی نہیں دیتے ،تو  کیا داماد اپنے سسر کو زکوۃ دے سکتا ہے ؟اور میری ایک سالی ہے اس کا شوہر بھی فوت ہوا ہے ،اس کی صرف بیٹیاں  ہیں ،تو کیا اسے زکوۃ کی رقم دے سکتا ہوں؟

جواب

زکوۃ اپنے اصول (والد، والدہ، دادا، دادی،  نانا،نانی ۔۔الخ)اور فروع (اولادیا اولاد کی اولادیعنی بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے نواسیاں اور ان کی اولاد در اولاد) کو نہیں دی جا سکتی۔جب کہ مستحقِ زکوٰۃ بہن، بھائی ،سسر، ساس،سالی، سالا،بہو ، داماد وغیرہ رشتہ داروں  کودی جاسکتی ہے بلکہ اجنبی کی بجائےمستحق رشتہ داروں کودینا زیادہ بہتر ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق داماد  کا  مستحقِ زکوۃ  سسر اور سالی کو زکوۃ کی رقم دینا جائز ہے۔

 

ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188)

والأفضل ‌صرفها للأقرب فالأقرب من كل ذي رحم محرم منه ثم لجيرانه ثم لأهل محلته ثم لأهل حرفته ثم لأهل بلدته.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الزكوة، باب المصرف، ص:411)


فتویٰ نمبر : 10359/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں