بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

میت کو غسل دیتے وقت استنجا کرانا


سوال

میت کو غسل دیتے وقت اس کا استنجا کرانا کیسا ہے؟ اور اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے؟

جواب

میت کو غسل سے پہلےاستنجا کرانے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے، امام ابویوسف ؒ کے نزدیک استنجاءِ میت مکروہ ہے لیکن امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک راجح قول کے مطابق استنجا کرانا بلا کراہت جائز ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں میں دستانے پہن کریا کوئی موٹا کپڑا لپیٹ کر میت کے سترکوکپڑے کے اندر اندر ہی سے دھویا جائےاس لیے کہ اعضائےستر کو بلا حائل چھونا ، یا دیکھنا جائزنہیں ۔

                 

"ويستنجىٰ عند أبي حنيفة و محمد-رحمهما الله-كذا في محيط السرخسي، و صورة استنجائه أن يلفّ الغاسل على يديه خرقة، و يغسل السوأة، لأنّ مس العورة حرام كالنظر إليها.(الفتاوىٰ الهندية، كتاب الصلوة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج:1، ص:158)

"وتغسل عورته بخرقة ملفوفة الخ" تحرزا عن مسها لأنه حرام كالنظر كذا في البحر قوله: "وبعده وضيء" ‌لم ‌يذكر ‌الاستنجاء وذكره رضي الدين في المحيط فقال: أنه يستنجي عندهما لأن موضع الاستنجاء لا يخلو عن نجاسة فلا بد من إزالتها اعتبارا بحال الحياة وصورته أن يلف على يده خرقة فيغسل حتى يطهر الموضع لأن مس العورة حرام وعند أبي يوسف لا يستنجي ومشى عليه صاحب الخلاصة لأن المسكة قد زالت وبالاستنجاء ربما يزيد الاسترخاء فتخرج نجاسة أخرى فيكتفي بوصول الماء إليه اهـ من التبيين ملخصا."(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، باب أحكام الجنائز، ص:567)


فتویٰ نمبر : 10350/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں