بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
پیکیج کی قیمت اور MBs کی حد کا تعین نہ کرنا
سوال
ایک دکاندار اپنے لیے "My 5 Family 30 Days" پیکیج لگاتا ہے اور پھر دوسرے لوگوں کو اس میں شریک کرتا ہے، لیکن پیسوں کی مقدار ابتدا میں طے نہیں کرتا۔ پیکیج ختم ہونے کے بعد وہ ان سے کہتا ہے کہ پیکیج کے اتنے پیسے دے دیں، نیز اس میں MBsوغیرہ کی کوئی حد نہیں ہوتی تو اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
کسی بھی عقد میں معقود علیہ اور ثمن یا اجرت کی مقدار کا متعین کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں جہالت کی وجہ سے عقد جائز نہ ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر دکاندار اپنے لیے "My 5 Family 30 Days" پیکیج لگانے کے بعد دوسرے لوگوں کو بطور ِ عوض اس میں شریک کرتا ہو ،لیکن ابتدا میں پیسوں کی مقدار اور MBs کی کوئی حد طے نہیں کرتا، تو اس طرح عقد جائز نہیں، البتہ اگر وہ ابتدا میں پیسوں کی مقدار متعین کرے اورMBs کی کوئی لمٹ طے کرتا ہو تو پھر عقد جائز ہوگا۔
وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فضروب: منها: أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع من المنازعة، فإن كان مجهولا ينظر، إن كانت تلك الجهالة مفضية إلى المنازعة تمنع صحة العقد، وإلا فلا؛ لأن الجهالة المفضية إلى المنازعة تمنع من التسليم والتسلم فلا يحصل المقصود من العقد، فكان العقد عبثا لخلوه عن العاقبة الحميدة. وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة يوجد التسليم والتسلم فيحصل المقصود. (بدائع الصنائع، کتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص: 179)
(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع۔( بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج: 5، ص: 156)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں