بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دو بچو ں میں سے کسی ایک کو دودھ دینے کے بعد تعیین میں شک واقع ہونا


سوال

 میری بیوی نے میری بہن  کے دو بچوں میں سے ایک کو دودھ دیا ہے  بعد میں مجھے فون کیا کہ تیری  اجازت کے بغیر  میں نے  ان کو دودھ دیا ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دونوں بچوں میں سے ایک کو دودھ دیا ہے  لیکن میری بیوی کو یاد نہیں کہ بچے کو دودھ دیا ہے یا بچی کو، میرا 80 فیصد یقین ہے کہ بچی کو دودھ دیا ہے  لیکن  ہمارے پاس  نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی  گواہ، تو اس صورت حا ل میں حرمت  رضاعت کس کے لیے ثابت ہوگی ؟

جواب

  واضح رہے کہ جو بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے ،تو اس بچے پر دودھ پلانی والی عورت کے  اصول و فروع  سب حرام ہوجاتے ہیں، البتہ جب دو بچوں  کی تعیین میں شک واقع ہو جائے احتیاطاًدونوں بچوں  سے  کوئی رشتہ طے نہ کیا جائے،کیونکہ محرمات کے باب میں احتیاط پر عمل کی تعلیم دی گئی ہے ۔

صورت مسئولہ  کے مطابق اگر سائل کی بیوی  نے  دوبچوں میں کسی ایک کو  دودھ دیا  ہو، اور اب یقینی معلوم نہ ہو کہ کس بچے کو دودھ دیا  تھا ، تو  احتیاطاً دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی رشتہ طے نہ کیا جائے ۔

 

قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج... يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة .(الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1 ،ص:409)

وباب الحرمة مبني على ‌الاحتياط فتثبت الحرمة منهما جميعا، كما إذا حلب لبن امرأتين في قارورة وأوجر صبيا، فإذا وضعت من الثاني فقد انتسخ سبب لبن الأول باعتراض مثله عليه، فلهذا كان اللبن من الثاني بعده... والحل والحرمة مبني على ‌الاحتياط فلهذا لا يفتى بحل.(المبسوط للسرخسي،باب الرضاع،ج: 5، ص: 133)


فتویٰ نمبر : 7166/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں