بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چندہ کی رقم ذاتی استعمال میں لانا


سوال

 اہل محلہ  نےمسجد کےلیے چندہ کرنے کے لیے ایک آدمی کو مقرر کیا ہے اور چندے کے  پیسےاس کے پاس ہوتے ہیں  ۔لیکن اپنے خرچے کے لیے کبھی اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو وہ  ان پیسوں کو استعمال میں لاتا  ہے ، پھر جب اس کے پاس پیسے آتے ہیں تو واپس کرتا ہے ۔کیا اس طرح چندے کے پیسے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مسجد کےپیسےکمیٹی یا متولی و خزانچی کے پاس امانت ہوتے ہیں، اس لیے متولی مسجد  کی رقم صرف مسجد کے مصالح میں استعمال  کرنا ضرروی ہے، مسجد کے پیسے کسی کو بطورِ قرض دینے یا کمیٹی کے افراد کے لیے خود لینے کی اجازت نہیں ہے ۔ 

لہذا  صورت مسئولہ  میں چندہ کے پیسے  جس شخص کے پاس امانت ہیں ، وہ ان پیسوں کو اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتا۔

 

الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، ‌وإن ‌فعل ‌شيئا ‌منها ‌ضمن، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية، كتاب الودیعة، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:338)

أن القيم ليس له إقراض مال المسجد. قال في جامع الفصولين: ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد ،إلا ممن في عياله، ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن،وكذا المستقرض. (البحرالرائق، كتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف،ج:5، ص:259)


فتویٰ نمبر : 6147/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں