بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی بھتیجی کے ساتھ زنا کرنےسے حرمت مصاہرت کا ثبوت


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بھتیجی کے ساتھ کوئی ناجائز فعل کرے یا زنا کرے تو کیا اس شخص پر اپنی بیوی حرام ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

 اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوجائے تو اس پراس عورت کے اصول و فروع اور اس عورت پر اس مرد کے اصول و فروع حرام ہوجاتے ہیں۔ تاہم ان دونوں پر اصول و فروع کے علاوہ دوسرے رشتہ دارحرام نہیں ہوتے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق کسی شخص کا اپنی بیوی کی بھتیجی ناجائز فعل یا زنا کرنا  اگرچہ انتہائی قبیح فعل اور گناہ کبیرہ ہے، جس سے سچی توبہ کرنا ضروری ہے، تاہم اس سے اس پراپنی بیوی حرام نہیں ہوگی۔

 

(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع ‌حرمة ‌المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا... (قوله: وفروعهن) بالرفع عطفا على أصل مزنيته.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:32،33)


فتویٰ نمبر : 7111/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں