بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دو بکریوں میں سے ایک کو بطور اجرت مقرر کرنا


سوال

کیا دو بکریاں کسی کو اس شرط پر دینا جائز ہے کہ ایک سال تک وہ ان کی دیکھ بال کرتا رہے اور سال کے آخر میں ایک بکری، بطور اجرت، پالنے والے کی ہو گی اور ایک مالک کی ہو گی؟

جواب

شریعت مطہرہ کے روسےہراس معاملہ کو ممنوع قرار دیا گیاہے  جس میں جہالت کی وجہ سے طرفین کے باہمی نزاع کا خطرہ ہو  ، لہذا دیگر معاملات کی طرح  اجارہ میں بھی یہ ضروری ہے کہ اجرت اور مدت اجارہ متعین ہو اور اگر اجرت اور مدت اجارہ متعین نہ ہو تو ایسا عقد شرعاً فاسد ہوتا ہے اور عقد فاسد جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کو اس شرط پر دو بکریاں دیتا ہے کہ ایک سال تک وہ ان کی دیکھ بال کرتا رہے اور سال کے آخر میں ایک بکری، بطور اجرت، پالنے والے کی اور ایک مالک کی ہو گی، تو ایسا عقد جائز نہیں کیونکہ اس میں اجرت متعین نہیں۔ البتہ اگر عقد کرتے وقت دونوں بکریوں میں سے ایک بکری کو متعین كر كےبطور پیشگی اجرت دے دیا جائے، تو پھر یہ عقد جائز ہوگا۔

 

ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة لما روينا ولأن الجهالة في المعقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع. (الهداية، كتاب الاجارة، ج: 3، ص:231)

وإذا دفع رجل بقرة على أن يعلفها وما يكون  من اللبن والسمن بينهما انصافا ،فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة أجر قيامه وقيمةعلفه. (الفتاوی الھندیة، کتاب الإجارۃ، الباب الخامس عشر، الفصل الثالث، ج:3، ص:445)


فتویٰ نمبر : 3738/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں