بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

غسل كرتے وقت پانی کی چھینٹیں برتن میں موجود پانی میں گرنے کا حکم


سوال

سردیوں کے موسم میں غسل کرتے وقت اگر جسم سے پانی کے قطرے جدا ہو کر غسل کے لیے استعمال ہونے والے  بالٹی میں موجود پانی میں گر جائیں، تو کیا اس صورت میں بالٹی میں موجود پانی نجس ہو جائے گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر غسل کرنے والے کے جسم پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو اور غسل کرتے وقت پانی کے چھینٹیں برتن میں گر جائیں   تو ایسی صورت میں برتن میں موجود پانی نجس نہیں ہوگا ۔البتہ اگر جسم پر کوئی   ظاہری نجاست ہو اور اسے دھوتے وقت ناپاک پانی کا چھینٹا برتن میں گر جائے تو اس سے پانی نجس  ہوجائےگا۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر غسل کرنے والے کے جسم پر کوئی ظاہری نجاست  نہ ہو  اور غسل کرتے وقت پانی كے چھینٹے بالٹی میں گر جائیں تو اس سے پانی نجس نہیں ہوگا۔

 

‌جنب ‌اغتسل ‌فانتضح ‌من ‌غسله ‌شيء في إنائه لم يفسد عليه الماء. أما إذا كان يسيل منه سيلانا أفسده، وكذا حوض الحمام على قول محمد رحمه الله لا يفسده ما لم يغلب عليه يعني لا يخرجه من الطهورية.(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الثاني فيما لا يجوز به الوضوء، ج:1، ص:23)

والحاصل ‌أن ‌المائع ‌متى ‌أصابته ‌نجاسة خفيفة أو غليظة وإن قلت تنجس ولا يعتبر فيه ربع ولا درهم، نعم تظهر الخفة فيما إذا أصاب هذا المائع ثوبا أو بدنا فيعتبر فيه الربع.(ردالمحتارعلى الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الانجاس، ج:1، ص:322)

‌أو ‌مماثلا ‌كمستعمل ‌فبالأجزاء، فإن المطلق أكثر من النصف جاز التطهير بالكل وإلا لا.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب المياه، ج:1، ص:182)


فتویٰ نمبر : 10355/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں