بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غسل خانے میں کپڑے تبدیل کرتے وقت مسنون دعا پڑھنا


سوال

ایسا غسل خانہ جس میں کموڈ بھی لگا ہو، تو اس میں نہانے کے بعد  آدمی کپڑا پہنتے وقت  مسنون  دعا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسنون دعائیں ایسی جگہ پڑھنی چاہیے جو پاک ہو، کیونکہ ان میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔اس لیے  اگر غسل خانہ ایسا بنا ہو کہ جس میں کموڈ  لگا ہو  اور کموڈ استعمال کرنے کے بعد اس میں گندگی نہ ٹھہرتی ہو تو ایسے غسل خانہ میں نہانے  کے بعد کپڑے تبدیل کرتے وقت مسنون دعا  پڑهنے کی گنجائش ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ تیز آواز سے نہ پڑھی جائے۔لیکن اگر گندگی پڑی ہو تو پھر زبان سے دعا نہ پڑھے بلکہ دل ہی دل میں ان کا ورد کرے۔

 

قراءة القرآن في الحمام على وجهين إن رفع صوته يكره وإن لم يرفع لا يكره وهو المختار وأما التسبيح والتهليل لا بأس بذلك وإن رفع صوته كذا في الفتاوى الكبرى. (الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الرابع في الصلاة والتسبيح وقراءة القرآن،ج:5،ص:365)

قال في الخانية وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراء وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به ولا بأس بالتسبيح والتهليل وإن رفع صوته. (ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة، مطلب في القراءة عند الميت،ج:3،ص:85)


فتویٰ نمبر : 6146/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں