بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
حکومت کا معدنیات لیز پر دینا اور اس میں ٹیکس وصول کرنا
سوال
زمرد اور دیگر قیمتی پتھر نکالنے کے لیے حکومت سے 10 سال کے لیے ایگریمنٹ کیا جاتا ہےلیکن اس کاطریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ سرکاری پہاڑ10 سال کے لیے حکومت جس کو بھی دیتی ہے اس سے ایک ارب روپے لیتی ہے ،اور وہ پہاڑ حکومت کے قبضہ میں ہوتا ہے ،بعض پیسے لیز ہولڈر سے نقد لیتی ہے ،اور بعض سےقسط وار لیتی ہے،پھر اس پہاڑ سے جو زمرد نکلتے ہیں حکومت اس میں ٹیکس بھی لیتی ہیں یعنی پانچ یا چھ پرسنٹ ۔کیا شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
2:فقہی اصطلاح میں اگر اس کو اجارۃ الاعیان کی وجہ سےناجائز قرار دیا جائے تو 1957سے اس پر ابتلائے عام اور معمول چلا آرہا ہے اور اربوں کمائی اس سے ہوتی ہے تو کیا ابتلائے عام اور معمول کی وجہ سے ان کے لیے جواز کی گنجائش ہو سکتی ہے یا نہیں ؟
جواب
1:واضح رہےکہ معدنیات زمین کے اجزاءمیں شمارہوتےہیں اس لیے معدنیات زمین کے تابع ہیں،البتہ اس کی ملکیت میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے چنانچہ احناف کے نزدیک جس جگہ سے یہ چیزیں نکالی جائیں اگر اس کا مالک معلوم و متعین ہے تو ان معدنیات کا مالک وہی سمجھا جائے گا۔ چاہے نکالنے والا وہ خود ہو یا کوئی اور شخص۔ چنانچہ حکومت کی ملکیت میں موجودزمینوں سے نکلنے والے معدنیات کامالک حکومت ، شخصی جگہ سے نکلنے والے معدنیات کامالک وہ شخص اورقومی ملکیت سے نکلنے والے معدنیات کی مالک قوم سمجھی جائے گی اور اگر غیر مملوکہ زمین سےمعدنیات نکلیں ہو تو نکالنے والااس کا مالک سمجھا جائے گا۔اس کے برعکس موالک کے مشہورقول کے مطابق معدنیات جس حالت میں بھی ہوں ،غیرمملوک زمین میں ہوں ، یاسرکاری زمین میں یاکسی شخص یاقوم کی مملوکہ زمین میں ، اِن سب کامالک حکومت ہوگا۔ حکومت عارضی انتفاع کے لیے کسی کوبھی بطورِجاگیردے سکتی ہے البتہ کسی کواس کامستقل مالک نہیں بناسکتی اورجس کودیاجائے وہ حاصل شدہ معدنیات کے منافع کا1/40حصہ بطورِزکوٰۃ ادا کرے گا۔
معدنیات کے بارے میں پاکستان کاقانون بھی یہ ہے کہ تمام کان اورمعدنیات ہمیشہ حکومت کی ملکیت شمارہوں گی۔ یہ قانون فقہ مالکی کے ساتھ مطابقت رکھتاہے کیونکہ اُس میں بھی تمام معدنیات کامالک حکومت ہے ،نیز فقہاے کرام کے ہاں جب کسی مجتہدفیہ مسئلہ میں حاکم کافیصلہ کسی ایک رائے پرہوجائے توفیصلہ کی وجہ سے وہ قوی اورواجب العمل ہوجاتاہے۔ لہٰذاپاکستان کے اس قانون کے مطابق شرعاً بھی معدنیات کی ملکیت حکومت کے پاس ہوگی۔
صورت مسئو لہ میں حکومت جوپہاڑ کسی کو دس سال کے لیے لیز کے طور پر دے کر بدلے میں ایک ارب روپے لیتی ہے ، چونکہ یہ شخص حکومت کی ملکیت سے انتفاع حاصل کررہاہے اس لیے حکومت کے لیے اس کے عوض رقم وصول کرناجائزہے۔ اس طرح معدنیات نکلنے کے بعدحکومت فی ٹن کے حساب سے جو ٹیکس وصول کرتی ہےتوشرعی حیثیت سےحکومت ضروریات کے تحت جائزحدتک ٹیکس وصول کرسکتی ہے لہٰذا معدنیات نکالنے والے سے فی ٹن کے حساب سے مناسب مقدارمیں ٹیکس لینابھی حکومت کے لیے جائزہے ۔
2:اسی طرح حکومت جو پہاڑ لیز اور اجارہ پر دیتی ہے یہ اجارۃ الاعیان کی صورت ہے جس میں استہلاک عین ہوتا ہے اور اجارہ کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس میں استہلاک منافع ہو استہلاک عین نہیں یعنی عقد اجارہ میں جو چیز کرایہ پر دی جائے وہ چیزاپنی حالت پر باقی رہے اور اس سے منافع حاصل ہوتے رہیں لہذا قیاس کی رو سے یہ معاملہ ناجائز ہونا چاہیئے لیکن عرف عام اور تعامل کی وجہ سے استحسانا یہ معاملہ جائز ہے جیسا کہ فقہائے کرام نے حمام کی اجرت اور مرضعہ کی اجرت کو استحسانا جائز قرار دیا ہے۔یہاں یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت کان کنی کے لیے جگہ دینے کے بدلےمیں اجرت وصول کرتی ہے جب کہ معدنیات کو اس کے لیے مباح کردیا ہے کہ وہ اسے لے جا کر اپنے لیے فروخت کرے۔
أنّ المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها.(ردّالمحتار،كتاب الزّكاة،باب الرّكاز،ج:3،ص:259)
"فاعلم أن المستخرج من المعدن ثلثۃ أنواع جامد یذوب وینطبع کالنقدین والحدیدوجامد لا ینطبع کالجصّ والنورۃ والکحل والزرنیخ وسائر الأحجار کالیاقوت والملح وما لیس بجامد کالماء والقیر والنفط ولا یجب الخمس إلا فی النوع الأول.( فتح القدیر على الهداية،كتاب الزكاة، باب في المعادن والركاز،ج:2،ص:233)
وأما ما لا یذوب بالإذابۃ فلا خمس فیہ ویکون کلّہ للواجد ؛ لأن الزرنیخ والجص والنورۃ ونحوها من أجزاء الأرض فکان کالتراب والیاقوت والفصوص من جنس الأحجار إلا أنها أحجار مضیئۃ ولا خمس فی الحجر. وأما المایٔع کالقیر والنفط فلا شیء فیہ ویکون للواجد؛لأنہ ماء وأنہ مما لا یقصد بالاستیلاء فلم یکن فی ید الکفار حتی یکون من الغنایٔم فلا یجب فیہ الخمس۔۔۔۔ہذا إذا وجد المعدن فی دار الإسلام فی أرض غیر مملوکۃ فأما إذا وجدہ فی أرض مملوکۃ أو دار أو منزل أو حانوت فلا خلاف فی أن الأربعۃ الأخماس لصاحب الملک وحدہ أو غیرہ؛ لأن المعدن من توابع الأرض ؛ لأنہ من أجزائها خلق فیها ومنها.( بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل حكم المستخرج من الأرض،ج:2،ص:67)
"وحکمہ: للإمام ولو بأرض معین إلا مملوکۃ لمصالح فلہ من المدونۃ قال مالک : وللإمام إقطاع المعادن لمن رأی ویأخذ منها الزکاۃ وکذلک ما ظهر من المعدن فی أرض العرب وأرض البربر فالإمام یلیها ویقطعها لمن رأی ویأخذ زکاتها وکذلک ما ظهر منها بأرض العنوۃ فهو للإمام. وأما ما ظهر منها فی أرض الصلح فهو لأهل الصلح لهم أن یمنعوا الناس أن یعملوا فیها. ابن رشد : مذهب المدونۃ أن المعادن لیست تبعا للأرض التی هي فیها مملوکۃ کانت أو غیر مملوکۃ إلا أن تکون فی أرض قوم صالحوا علیها فإن أسلموا رجع أمرها إلی الإمام. ووجهہ أن المعادن التی فی جوف الأرض أقدم من ملک المالکین لها فلم یحصل ذلک ملکا لهم بملک الأرض فصار ما فیها بمنزلۃ ما لم یوجف علیہ بخیل ولا رکاب.(التاج والإكليل لمختصر خليل،محمد بن يوسف بن أبي القاسم بن يوسف العبدري الغرناطي، أبو عبد الله المواق المالكي،كتاب الزكاة، زكاة المعادن وخمس الركاز،دار الكتب العلمية،ج:3،ص:207)
"والمعتمد أنها للإمام لأن المعادن قد یجدها شرار الناس فلو لم یکن حکمہ للإمام لأدی إلی الفتن والهرج."(حاشية الدسوقي على الشرح الكبير،محمد بن أحمد بن عرفة الدسوقي المالكي ،كتاب الزكاة، زكاة المعدن،دار الفكر،ج:1 ص:487)
"ولهذا إذا حکم الحاکم في فصل مجتهد فیہ ینفذ"(تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب النكاح،ج:2،ص:116)
"التصرّف على الرعية منوط بالمصلحة"(شرح المجلة،سليم رستم باز،المقالةالثانية في القواعد الفقهية،مادة:58،ج:1،ص:42)
فصار كدخول الحمام بأجر فإنه جاز استحسانا للتعامل، وإن أبى القياس جوازه لأن مقدار المكث وما يصب من الماء مجهول.(مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر،كتاب البيوع،باب السلم،ج:2،ص:106)
All the mines and minerals shall and shall always be deemed to have been the property of government. ) The Land Revenue Act: 49 (West Pakistan Land Revenue Act (XVII of 1967) section 49)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں