بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیسٹ کے بغیر سرکاری نوکری خریدنا


سوال

آج کل حکومت  ٹیسٹ دیے بغیر نوکریاں بیچتے ہیں اس طرح  نوکریاں خریدنا کیسا ہے جب کہ استعداد ہو؟

جواب

رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہے ، اس لئے اگر کوئی غیر اہل شخص کسی نوکری کے حصول کے لیے  کسی کو کچھ رقم  دیتا ہے ، اور اس  کے ذریعے دوسروں کی حق تلفی کر تا ہے تو یہ رشوت ہے اور اس کا دینےاور لینے والا دونوں گناہ گار ہوں گے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق سرکاری نوکری کے لیے چاہے ٹیسٹ ہو یا نہ ہوبہر حال اس کے حصول کے لیے رقم دینا رشوت کے زمرے میں داخل ہو کر نا جائز ہے ۔

 

وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.(رد المحتار علی الدر المختار،ج:5،ص:362)


فتویٰ نمبر : 3706/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں