بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/08/2026

دارالافتاء

 

مقررہ مدت تک رقم کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں بائع کا اضافی رقم کا مطالبہ کرنا


سوال

ہم  کمپنی پر تمباکو  1200 روپے فی کلو ادھار بیچتے ہیں  اور کمپنی والے ہم سے کہتے ہیں کہ ہم آپ کو  ایک ہفتہ بعد 1200 روپے ادا کریں گےاور اسی پر معاہدہ ہو جاتا ہےلیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب  ادائیگی کا وقت آتا ہے تو کمپنی ہم سے کہتی ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں لہذا آپ ہمیں مزیدمہلت دیں ،جس پر ہم  کمپنی والوں  سے کہتے ہیں کہ پھر 1200 کی بجائے 1500 روپے دوگے، تو کیا ایسا کرناشریعت میں  جائز ہےیا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر بائع مشتری پر  کوئی چیز مقرره مدت تك ادھار   فروخت کرے ،اور مدت پوری ہو نے کے بعد مشتری رقم اداکرنے میں کسی وجہ سے  تاخیر کرے اور مدت بڑھانے کا مطالبہ کرے توبائع کے لیے مدت بڑھانے کے بدلے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ سود کے حکم میں داخل ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کمپنی پر تمباکو 1200 روپے فی کلو ادھار  بیچا جائے لیکن  مقررہ مدت پر  کمپنی ادائیگی نہ کر سکے اور وہ  مدت بڑھانے کا مطالبہ کرے تو بائع کے لیے مدت بڑھانے کے عوض  کمپنی سے اضافی 300 روپے کا مطالبہ جائز نہیں، یہ سود ہے اس سے احتراز کیا جائے۔

 

وأما الربا في الدين فهو على وجهين ...احدها ان ‌يبيع ‌رجلا ‌متاعا بالنسيئة فلما حل الاجل طالبه رب الدين فقال المديون زدني في الاجل ازدك في الدراهم ففعل فان ذلك ربا والثاني ان يقول رب الدين للمديون قبل محل الاجل اعطني مالي فاحط عنك بعضا من ديني ففعل فان ذلك ربا للمديون ولا يحل له ذلك.(النتف في الفتاوی، ‌‌الربا في الدين،ج:1،ص:485)


فتویٰ نمبر : 3705/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں