بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بائع کا مبیع کی مقدارمیں اپنی طرف سے اضافہ کرکے اس کا عوض مانگنا


سوال

ایک دکاندار شیشہ بیچتا ہے اگر کوئی گاہک اس سے 13 فٹ شیشہ لینا چاہتا ہے تو 15 فٹ شیشہ کاٹ کر دیتا ہے اور پیسے بھی 15 فٹ کے لیتا ہے اگر کوئی 15 فٹ لینا چاہے تو 18 فٹ  کاٹ کر اس کا حساب لگا کر بیچتاہے اگر کوئی 18 فٹ لینا چاہے تو وہ 21 فٹ کاٹ کر اس حساب سے پیسے لیتا ہے دکاندار کے پاس شیشہ کے بڑےبڑے شیڈ ہیں وہ اس شیڈ سے کاٹ کربیچتا ہے تو کیا دکاندا رکے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

جب بائع اور مشتری کے درمیان عقد کے وقت  مبیع کی مقدار ، قیمت وغیرہ متعین ہو جائے تو بائع اتنی مقدار میں مبیع اور مشتری رقم دینے کا پابند ہو گا۔البتہ اگر بائع اپنی طرف سے مبیع کی مقدار میں اضافہ کرتے ہوئے اس کا عوض مانگے اور مشتری اس پر راضی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عاقدین کے مابین 13یا15 فٹ مقرر ہو جائے اور قیمت بھی متعین ہو جائے،پھر بائع اپنی طرف سے کچھ فٹ زیادہ کرے تو ایسی صورت میں اگر مشتری یہ  زیادہ فٹ لینے اور اس  کے بدلے زیادہ رقم دینے پر راضی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں،اور اگر مشتری زیادہ قیمت  دینے پر راضی نہ ہو  تو بائع عقد کے مطابق اتنی مقدار میں ہی شیشہ دینے کا پابند ہو گا ،اور اگر بائع اضافی  دو فٹ کے بدلے رقم نہ لے تو اس صورت میں یہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہو گا۔

 

أما تعريفه فمبادلة المال بالمال ‌بالتراضي.(الفتاوی الهندية،كتاب البيوع،ج:3،ص:2)

وإن زاد شيء عليه ‌فهو ‌للبائع؛ لأن البيع وقع على مقدار معين والقدر ليس بوصف.(البحرالرائق،كتاب البيع، باب من اشترى عنب كرم على أنه ألف من فظهر أنه تسع مائة، ج:5، ص:311)


فتویٰ نمبر : 3704/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں