بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی اور بیٹیوں کا میراث سےدستبردار ہونا


سوال

اگر جرگہ کے سامنے میت کے ورثا میں سےاس کی بیوی اور بیٹیاں یہ کہیں کہ ہم میراث میں اپنا حصہ نہیں لینا چاہتے  ہمارے حصے ہمارے بھائیوں کو دیے جائیں تو کیا ان  کے کہنے سے وہ میراث سے محروم ہوں گے یا نہیں؟

جواب

میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے حصے سے بلاعوض دستبردار ہوجانا شرعا معتبر نہیں کیونکہ میراث ایک غیر اختیاری حق ہے ،جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا، چنانچہ میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ کو بلا عوض معاف کرنا معتبر نہیں ۔تاہم اگر ترکہ تقسیم ہوجائے اور کوئی وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد کسی کو دینا چاہے،تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق میت کی بیوی  اور بیٹیوں کا جرگہ کے  سامنے بلاعوض میراث سےدستبردار ہونا معتبر نہیں البتہ اگر وہ اس کے عوض کچھ مال لے لیں یا میراث کی تقسیم کے بعد اپنے حصوں پر قبضہ کرکے بھائیوں کو دینا چاہیں تواس میں کوئی حرج نہیں۔

 

الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الدعوی ،باب التحالف،ج:8،ص:114)

 ولو قال ‌تركت ‌حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الإرث جبري لا يصح تركه.(رد المحتار علی  الدر المختار،کتاب الدعوی،باب دعوی النسب،ج:8،ص:202)

(وإن أخرجت الورثةأحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، فصل دين بينهما صالح أحدهما عن نصيبه على ثوب لشريكه ،ج:5،ص:49)


فتویٰ نمبر : 3683/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں