بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی تک کرنسی کی قیمت میں اضافہ ہوجانا


سوال

میں نے ایک شخص سے سعودی عرب میں 2000 ریال قرض لیا تھا۔اس وقت ایک ریال تقریباً پاکستانی 65 روپے کے برابر تھا اور اب ایک ریال  72 روپے کے برابر ہے۔اب میں اور وہ  دونوں پاکستان  آئے ہیں اور قرض ابھی تک ادا نہیں کیا ہے۔ابھی  اگر میں قرض ادا کروں تو کونسی قیمت  کا اعتبار ہوگا  یعنی 65 روپے کے اعتبار سے ادا کروں  یا 72 روپے کے اعتبار۔کیوں کہ اب تو ریال  نہیں دےسکتا؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی سےبطور قرض کچھ رقم لے لے تو واپسی میں اتنی ہی رقم لوٹانا ضروری ہےجتنی لی تھی۔لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر لازم ہے کہ 2000 ریال ہی واپس کرے ،تا ہم اگر قرض خواہ ریال کی بجائے روپے لینے پر راضی ہو تو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے 2000 ریال کی قیمت کے برابر پاکستانی روپے بھی دے سکتا ہے   ۔

 

فإن الديون تقضى بأمثالها.(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الشرکة، مطلب في قبول قوله دفعت المال، ج:6،ص:495)

"فإذا كان ‌عقد ‌البيع ‌أو ‌القرض وقع على نوع معين منها كالريال الفرنجي مثلا فلا شبهة في أن الواجب دفع مثل ما وقع عليه البيع أو القرض."( العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب الصرف، ج:1، ص:281)
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟(الجواب) : نعم ولاينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى".(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب القرض، ج:1، ص:279)


فتویٰ نمبر : 3708/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں