بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

اجیر مشترک پر ضمان مقرر کرنا


سوال

 میرا اچھا خاصا ہول سیل کا کاروبار ہے، ہمارے کسٹمرز جب بھی ہمیں ہول سیل کے اعتبار سے آرڈر دیتے ہیں ، تو اس میں دو صورتیں ہوتی ہیں یا تو ہماری طرف سے سوزوکی یا زرنج اس تک مال پہنچاتے ہیں یا تو اس کی طرف سے کوئی سوزوکی یا زرنج وغیرہ آکر یہاں سے مال اپنے دوکان لے جاتا ہے اور یہ سوزوکی اور زرنج دونوں کرایہ کے ہوتے ہیں اور یہاں یہ عرف ہے کہ سوزوکی جس کا ہو ضمان بھی اسی پر آتا ہے گم ہونے کی صورت میں ، اور ہم ان سوزوکی اور زرنج والوں پر ضمان بھی مقرر کرتے ہیں یعنی اگر کاٹن گم یا چوری ہوجائے تو اس کا تاوان ڈرائیور دےگا۔اگر ہم لوگ اس پر تاوان  مقرر نہیں کرتے تو یہ لوگ مال پہنچانے میں بہت غفلت کرتے ہیں ۔ ضمان کے بارے میں فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے ”کرائے کی چیز مستاجر کے قبضہ میں بطور امانت ہوتی ہے ،لہذا اگر اس نے حفاظت میں تقصیر و کوتاہی نہیں کی تھی تو تاوان نہیں آئے گا لیکن موجودہ دور میں عام طور پر مستأجر کی غفلت کی وجہ سے آئے دن اس قسم کی واقعات پیش آتے ہے اور یہ بھی معلوم کرنا مشکل ہے کہ مستأجر نے غفلت کیا ہے یا نہیں اور اس کی نظیر فقہا کی اصطلاح میں اجیر مشترک ہے صاحبین ؒ کے مذہب کے مطابق استحسانا اس پر تاوان لگانا جائز ہے صیانۃ لاموال الناس (زکریا ج؛ 5 ص 717 )، تو کیا ان لوگوں سےضمان لینا جائز ہے ،دار العلوم زکریا کو دیکھتے ہوئے ۔ اگر کسی طریقے سے یہ معلوم ہوجائے کہ مزدور نے نہ کوئی کوتاہی کی ہے اور نہ غفلت تو پھر یہ تاوان میرے اوپر آئے گا یا میرے کسٹمر پر ، پہلی صورت میں تو ظاہرا ًمیرے اوپر ہے کیونکہ مال اب تک اس کے پاس پہنچا بھی نہیں ہے اور میرا سودا اسی پر ہوا ہے کہ تمہاری دوکان تک پہنچاوں گا اور گن کر  دونگا بھی ، لیکن دوسری صورت میں تاوان کس پر آئے گا حال یہ  کہ سوزوکی والا اس کی طرف سے ہے اور ہم نے یہاں سے گنتی و شمار کر کے مال دیا تھا،میرا سودا اس پر نہیں ہوا ہے کہ تمہاری دوکان تک پہنچاوں گا اور شمار کر کےدونگا ؟

جواب

1۔ بائع(فروخت کرنے والے) کی ذمہ داریوں میں سے یہ ہے کہ وہ مبیع کو مشتری (خریدار) کےحوالہ کرے،اور حوالگی کی جگہ اور راستے کے ضمان کے بارے میں خرید وفروخت کے وقت کے معاہدے کا اعتبار ہوگا۔ اور اگر معاہدہ میں تصریح نہ ہو تو پھر  عرف کے مطابق کسی ایک پر ذمہ داری عائد  ہوگی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق   اگر بائع و مشتری کے درمیان یہ معاہدہ ہو ا ہو کہ بائع مطلوبہ جگہ پر  مال مشتری کے حوالے کرے گااور گاڑی بھی بائع کی طرف  سےہوگی تو اس صورت  میں اگر راستہ میں مال ہلاک ہوجائے تو بائع(یا ڈرائیور)پر تاوان ہوگا۔ اوراگر معاہدہ میں یہ طے ہوا ہو کہ مشتری بائع کی دکان سے مال اٹھائے گا ،بائع گن کر مال حوالہ کرے گاتو اس صورت میں اگر مال راستہ میں  ہلاک  ہوجائے تو مشتری(یا ڈرائیور) پر تاوان  ہوگا ،بائع ضامن  نہ ہوگا۔

2۔ اگر کوئی شخص متعدد لوگوں کے لیے  اجرت کے عوض کام کر رہا ہو، تو  اس کو اجیر مشترک یا اجیرعام کہا جاتاہے، اگر اجیر مشترک سے کسی کا مال ایسی وجہ سے ہلاک ہو جائے  جس سے بچنا ممکن  تھا  تو ضامن ہوگا ،البتہ اگر کسی ایسی وجہ سے مال ہلاک ہو جائے جس سے بچنا ممکن نہ  ہوتو ایسی صورت میں ضامن نہ ہوگا۔

لہذا  اگر  مال ڈارئیور کی غفلت و لاپرواہی  سے گم ہو جائے تو اس پر  ضمان لگانا جائزہے البتہ اگرکسی ایسی وجہ سے گم ہوا  ہو جس سے  بچنا ممکن نہ تھا تو پھر اس پر تاوان ڈالنا جائز نہیں۔

 

 (‌والمتاع ‌في ‌يده ‌غير ‌مضمون ‌بالهلاك) ‌سواء ‌هلك بسبب يمكن التحرز عنه كالسرقة أو بما لا يمكن كالحريق الغالب والغارة المكابرة، وهذا عند أبي حنيفة وزفر والحسن بن زياد رحمهم الله وهو القياس، وقالا يضمن إلا إذا هلك بأمر لا يمكن التحرز عنه؛ لأن عمر وعليا رضي الله عنهما كانا يضمنان الأجير المشترك ولأن المعقود عليه الحفظ وعقد المعاوضة يقتضي سلامة المعقود عليه عن العيب فيكون المستحق بالعقد حفظا سليما عن العيب الذي هو سبب الهلاك؛ لأنه لا يمكنه العمل إلا بالحفظ... وبقولهما يفتى اليوم لتغير أحوال الناس وبه تحصل صيانة أموالهم.(تبيين الحقائق، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:137)

وحكم الأجير المشترك أن ما هلك في يده من غير صنعه فلا ضمان عليه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول زفر والحسن، وإنه قياس سواء هلك بأمر يمكن التحرز عنه " كالسرقة والغصب أو بأمر لا يمكن التحرز عنه كالحرق الغالب والغارة الغالبة والمكابرة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى إن هلك بأمر يمكن التحرز عنه فهو ضامن، وإن هلك بأمر لا يمكن التحرز عنه فلا ضمان. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني والعشرون في حكم الإجير المشترك والخاص، الفصل الأول الحد الفاصل بين الأجير المشترك والخاص، ج:4، ص:500)

(قوْلُهُ وَلَا بيْعٌ بِشَرْطٍ) شُرُوعٌ فِي الْفَسَادِ الْوَاقِعِ فِي الْعَقْدِ بِسَبَبِ الشَّرْطِ «لِنهْيِهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بيْعٍ وَشَرْطٍ»، لَكِنْ لَيْسَ كُلُّ شَرْطٍ يفْسِدُ الْبيْعَ نَهْرٌ. وَأَشَارَ بِقَوْلِهِ بِشَرْطٍ إلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ كَوْنِهِ مُقَارِنًا لِلْعَقْدِ؛ لِأَنَّ الشَّرْطَ الْفَاسِدَ لَوْ الْتَحَقَ بعْدَ الْعَقْدِ، قِيلَ يلْتَحِقُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَقِيلَ: لَا وَهُوَ الْأَصَحُّ كَمَا فِي ‌جَامِعِ ‌الْفُصُولَيْنِ۔(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب في البيع بشرط فاسد، ج:5، ص:84)

إذا بيع مال على أن يسلم في محل كذا لزم تسليمه في المحل المذكور (انظر المادة 188) .مثال ذلك ‌أن ‌يبيع ‌شخص ‌حنطة ‌من ‌مزرعة له على أن يسلمها إلى المشتري في داره فيجب عليه تسليمها إلى المشتري في داره وكذلك إذا شرط تسليم المبيع الذي يحتاج إلى مئونة في نقله إلى محل معين فيجب تسليمه هناك وإن كان يصح البيع بشرط تسليم المبيع في محل معين حسب هذه المادة إلا أنه لا يصح البيع بشرط حمل المبيع ونقله إلى دار المشتري (انظر شرح المادة 1890) (هندية) ففي هذه المسألة قد تعين محل المبيع مكانا للتسليم فاشتراط نقله إلى دار المشتري بعد ذلك شرط زائد ومفسد أما المسألة التي ذكرتها، المجلة فليست على هذا الوجه.(درر الحکام في شرح مجلة الأحکام، الکتاب الأول البيوع، الباب الخامس، الفصل الثالث، مادة:287، إذا بيع مال علی أن يسلم في محل کذا، ج:1، ص:270)


فتویٰ نمبر : 10372/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں