بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/08/2026

دارالافتاء

 

عمرہ کرنے کے بعد حلال ہونے سے پہلے حدود حرم سے نکلنا


سوال

میں افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد حالت احرام میں تھا،تو اچانک کسی کام سے حدود حرم سے باہر نکلا،پھر دوبارہ واپس آکر حلق کیا اور حلال ہو گیا ،تو کیا مجھ پر کوئی دم لازم آیا  یا  نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حج اور عمر ہ کے ارکان مکمل ادا کرنے کے بعداحرام سے نکلنے کے لئےحلق یا قصر واجب ہے اور اسی سےآدمی حلال ہوجاتا ہےاوراحرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں ۔حلق یا قصر کے لئے ضروری ہے کہ حدود حرم  کے اندر ہو اسلئے اگر کسی نے حدود حرم سے باہر حلق یا قصر کیا تو صحیح قول کے مطابق اس پر دم لازم ہوگا،البتہ حالت احرام میں حدود حرم سے نکلنا کوئی جنایت نہیں اور نہ اس سے دم لازم ہوتا ہےچنانچہ اگر کوئی شخص حلق یا قصر کئے بغیر حدود حرم سے باہر نکلےاور اسی حالت میں واپس آکرحدود حرم میں حلق یا قصر کرے تو اس پر کوئی دم لازم نہیں آتا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق   اگرسائل افعال عمرہ  ادا کرنے کے بعد حالت احرام میں حدود حرم سے باہر نکل  گیا ہو ،اور پھر اسی حالت میں واپس آکر حلق   کیا ہو تو اس پر دم  لازم نہیں ۔

 

 فإن لم يقصر حتى رجع وقصر فلا شيء عليه في قولهم جميعا.معناه إذا خرج المعتمر ثمّ عاد؛لانه أتى به في مكانه فلا يلزمه ضمانه.(الهداية،كتاب الحج،باب الجنايات،ج:1،ص:270)

 فالحلق والتقصير واجب عندنا... وأمّا حكم الحلق: فحكمه حصول التحلّل، وهو صيرورته حلالا يباح له جميع ما حظر عليه الإحرام.(بدائع الصنائع،كتاب الحج،فصل في أحكام الحلق والتقصير،وفصل في حكم الحلق،ج:3 ،ص103،98)

وتجب شاةبتأخير النّسك عن مكانه، كما اذاخرج من الحرم وحلق رأسه، سواء كان الحلق للحج أو للعمرة عند أبي حنيفة و محمّد رحمهما الله.(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،الفصل الخامس،ج:1،ص:311)


فتویٰ نمبر : 10344/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں