بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کا اپنے شوہر سے اولاد پرکیےہوئے خرچے کا مطالبہ کرنا


سوال

 طلاق کے بعد اگر کوئی عورت نابالغ اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی ذاتی رقم سے خرچے کرے ،تو کیا ان خرچوں کا مطالبہ شوہر سے کر سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نابالغ بیٹوں کا خرچہ  بالغ ہونے تک باپ کے اوپر لازم ہوتا ہے جبکہ بیٹیوں کا خرچہ ان کی شادی ہونے تک باپ پر لازم ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق نابالغ اولاد کا خرچہ باپ کے اوپر لازم ہے، البتہ اگرعورت شوہر کی اجازت کے بغیر اولاد پر اپنی ذاتی رقم سے خرچے کرے تو یہ اس کی طرف سے تبرع ہے، چنانچہ وہ اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی، لیکن اگر شوہر کے کہنے پریا قاضی کے کہنے پرخرچے کرے تو پھربیوی شوہر سے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

 

نفقة ‌الأولاد ‌الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد... ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب سابع عشر فى النفقات، ج:1، ص:560،545)

(‌والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق،باب النفقة، ج:5، ص:311)


فتویٰ نمبر : 7115/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں