بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

سولر پلانٹ اور ٹیوب ویل بنانے کےلیے دوست سے پیسے لے کر معین مدت تک منافع میں شریک کرنا


سوال

میں ایک دوست کے ساتھ  شراکت داری کرنا چاہتا ہوں طریقہ کار یہ ہے کہ زمین پر شمسی پلانٹ اور ٹیوب ویل لگانا چاہتے ہیں جس میں آدھے پیسے  میرے  ہوں گے اورزمین بھی میری ہوگی اور آدھے پیسے میرے دوست کے ہوں گے۔ مثلاً: 30 لاکھ روپے خرچہ آتا ہے ان میں سے 15 لاکھ روپے میرے ہوں گے اور 15 لاکھ روپے میرے دوست کے ہوں گے۔ اب اس کے ذریعے زمین سیراب کرنے پر جو منافع آئے گا ان میں سے دو حصے میرے ہوں گے اور ایک حصہ میرے دوست کا ہوگا اور زمین کو کاشت کرنے میں کھاد، سپرے، ٹریکٹر اور ٹیوب ویل کو چلانے پر جو خرچہ مزدوروں کی تنخواہ وغیرہ کا آئے گا اس میں دو حصے میرے ہوں گے اور تیسرا حصہ اس دوست کا ہوگا اور اگر اس ٹیوب ویل یا شمسی پلانٹ میں کوئی نقصان ہوا یعنی اگر ٹیوب ویل خراب ہوجائے یا آندھی وغیرہ سے شمسی پلانٹ کو نقصان پہنچے تو اس نقصان میں دو حصے میرے ہوں گے اور تیسرا حصہ اس کا ہوگا، نیز یہ شراکت داری تین یا چار سال تک ہوگی۔ جب میں اس کو اپنا حصہ ادا کردوں یعنی 15 لاکھ روپے نقد واپس کردوں تو پھر اس کا شمسی پلانٹ یا ٹیوب ویل کے ساتھ کوئی تعلق  نہ ہوگا اور نہ زمین کے منافع کے ساتھ کوئی تعلق ہوگا شمسی پلانٹ اور ٹیوب ویل پھر میری ملکیت  ہوگی۔ اس میں اب کوئی غیر شرعی یا سود وغیرہ کا مسئلہ تو نہیں، اگر ہے تو برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر کوئی شخص ٹیوب ویل وغیرہ بنانے کےلیے کسی سے  پیسے لے لے اور اس کو کسی مخصوص مدت تک اس چیز کے منافع میں شریک کرے اور مدت ختم ہونے پر اس کو اسی مقدار میں پیسے واپس کرنے کا پابندہو جو اس نے ابتدا میں لیے تھے تو یہ معاملہ قرض شمار ہوگا، نیز قرض پر کسی قسم کے منافع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل  شمسی پلانٹ اور ٹیوب ویل بنانا چاہتا ہو اور اس پر آدھا خرچہ خود کرے اور آدھے خرچے کے پیسے کسی دوست سے اس شرط پر لے کہ اس ٹیوب ویل سے جو منافع آئے گا اس میں چار سال تک دوتہائی منافع میرے ہوں گے اور ایک تہائی اس  دوست کے ہوں گے اور چار سال پورا ہونے کے بعد  دوست  کو اپنی رقم واپس دی جائے گی۔  رقم واپسی  کے بعد اس کے دوست کا پلانٹ اور ٹیوب ویل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگاتو اس طرح عقد کرنا جائز نہیں، کیونکہ دوست کے یہ پیسے قرض شمار ہوں گے اور قرض پر کسی قسم کے منافع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے جائز نہیں۔

البتہ اس کے جواز کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی  ہے کہ سائل  اور اس کا دوست سولر پلانٹ اور ٹیوب ویل وغیرہ مشترکہ طور پر لگائیں،  پھر دوست اپنا حصہ كسی معین مدت تک  سائل کو اجارہ پر دے دے اور  اس کی اجرت لیتا رہے اگر سولر  یا ٹیوب ویل کو نقصان ہوا تو دونوں اپنے اپنے حصے کے بقدر نقصان برداشت کریں گےاور جب طرفین شرکت کو ختم کرنا چاہیں تو سولر پلانٹ اور ٹیوب ویل کی مارکیٹ ریٹ کےاعتبار سے قیمت لگائی جائے اور سائل دوست کا حصہ اس کی رضامندی سے خرید لے۔

 

إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ ‌لأن ‌الوضيعة ‌اسم ‌لجزء ‌هالك ‌من المال فيتقدر بقدر المال۔ (بدائع الصنائع، کتاب الشرکۃ، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6، ص: 66)

 (‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض .(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في الشروط، ج: 10، ص: 697)

قال: ولا يجوز ‌إجارة ‌المشاع عند أبي حنيفة إلا من الشريك، وقالا: ‌إجارة ‌المشاع جائزة. ( الهداية، كتاب الإجارة، ‌‌باب الإجارة الفاسدة، ج: 3، ص: 238)

وشركة عقد وهي أن يقول أحدهما شاركتك في كذا ويقول الآخر قبلت، هكذا في كنز الدقائق... وحكم شركة العقد صيرورة المعقود عليه وما يستفاد به مشتركا بينهما، كذا في محيط السرخسي. ‌ أما ‌الشركة ‌بالمال فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع.(الفتاوى الهندية، كتاب الشركة،ج:3 ، ص:302)


فتویٰ نمبر : 3703/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں