بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

شک کی صورت میں حرمت رضاعت کا حکم


سوال

میرے والدین میرٍی ممانی کی بیٹی سے میرا رشتہ کروانا چاہتے ہیں لیکن میری ممانی کہتی ہے کہ میں نے رضاعت کے مدت میں تجھے دودھ دیا تھا اور اس نے اس معاملے کے بارے میں اپنے شوہر کو فون پر بتایا تھا اب ممانی کہتی ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے تجھے دودھ پلایا تھا یا تیری بہن کو میری بہن میری جڑواں ہے اور میاں کہتا ہے  کہ اس نے مجھے فون پر تمھاری بہن کا نام لیا تھا اور میری ماں  کو بھی اس بارے میں کچھ خبر نہیں ہے اور نہ ان دونوں کے پاس کوئی دلیل ہے  اور نہ کوئی اور گواہ تو کیا میرا نکاح میری ممانی کی بیٹی سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ بچے /بچی کا کسی عورت سے رضاعت کا ثبوت صرف اس وقت ہوتا ہے جب مدت رضاعت میں عورت کا دودھ بچے  /بچی  کے پیٹ میں یقینی طور سے پہنچ جائے ، چنانچہ اگر دودھ پینے میں شک ہو کہ بچے نے دودھ پیا ہے یا نہیں ، تو محض شک کی بنا پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر  سائل کی ممانی کو سائل کے دودھ پینے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو  محض شک کی بناء پر حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔لہذا  سائل  کےلیے  ممانی کی بیٹی سے نکاح کرناجائز ہے البتہ احتیاط کےطور پر اس نکاح سے  اجتناب بہترہے۔

 

المرأة ‌إذا ‌جعلت ‌ثديها ‌في ‌فم ‌الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت.( الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع،ج:١،ص:٤١٠)

‌فلو ‌التقم ‌الحلمة ‌ولم ‌يدر ‌أدخل ‌اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية.وفي ‌القنية: ‌امرأة ‌كانت ‌تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك. (ردالمحتار على الدر المختار ،كتاب النكاح ، باب الرضاع،ج:٤،ص:٤٠٢)


فتویٰ نمبر : 3737/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں