بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

قسطوں پر بیچ کرقیمت زیادہ مقررکرنےکاحکم


سوال

ہم قسطوں پر چیزیں بیچنےکا کاروبارکرتےہیں ، کوئی آکر  بیٹری مانگتاہے،تو  کوئی کپڑےلیتاہےاور کوئی موبائل وغیرہ قسطوں پر مانگتاہے ،ہم یہ چیزیں فروخت کرکےمثلا 1000روپے میں400روپے کماتےہیں،اورہرمہینےقسط مثلا200روپےلیتےہیں،کیاہمارایہ کاروبارجائزہےیانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ قسطوں پر بیچنے کا مطلب وہ بیع ہےجس میں بیچنے والاخریدار کو سامان اس وقت دےدے،لیکن خریداراس چیز کی قیمت فی الحال ادانہ کرے،بلکہ وہ طے شدہ قسطوں میں اس کی قیمت اداکرے،یہ معاملہ شرعاً جائزہےلیکن  اس معاملہ کےصحیح ہونےکےلیےضروری ہےکہ جہاں اور وقت  معاملہ کیاجاتاہےاسی موقع پر مدتِ ادائیگی اورقیمت متعین ہوجائے،اورادائیگی میں تاخیرپرکوئی جرمانہ لاگونہ کیاجائے۔

صورت مسئولہ کےمطابق کسی کےمطالبہ پر بازارسےنقدکوئی چیزخریدکر اس شخص کو  قسطوں پر زیادہ قیمت کےساتھ بیچناجائز ہے،بشرطیکہ معاملہ کے وقت   قیمت متعین کی جائے،قسطوں کی ادائیگی کی تاریخیں اورمقداربھی متعین  کی جائےاورتاخیر پر کوئی جرمانہ نہ لگایاجائے۔

 

وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا ‌فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما.(سنن الترمذي، أبواب البیوع عن رسول الله صلی الله عليه وسلم، باب ما جاء في النهي عن بیعتین في بيعة، ج:3، ص:84)

قال: "ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة فباعه بربح مائة ولم يبين فعلم المشتري، فإن شاء رده، وإن شاء قبل"؛ لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن ‌لأجل ‌الأجل، والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة فصار كأنه اشترى شيئين وباع أحدهما مرابحة بثمنهما.(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، ج:3، ص:58)


فتویٰ نمبر : 3812/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں