بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
قرض لوٹاتے وقت زیادہ پیسے دینا
سوال
میں نے ایک شخص سے 80 ہزار روپے قرض لیے تھے۔ اب میں اس قرض کو واپس کرنا چاہتا ہوں، مگر میں چاہتا ہوں کہ اس کو 80 ہزار کے بجائے 1لاکھ روپے دے دوں۔ کیا یہ اضافی 20 ہزار روپے دینا سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر مقروض قرض خواہ کے مطالبے کے بغیر اپنی طرف سے کچھ پیسے بڑھا کر قرض خواہ کو ادا کرے تو یہ جائز ہے اور سود کے زمرے میں نہیں آتا۔ بلکہ یہ ایک مستحسن عمل ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض کی ادائیگی زیادہ اچھے طریقے سے کرنے والا ہو۔' لیکن اگر قرض خواہ کی طرف سے زیادتی کا مطالبہ ہو تو پھر یہ زیادتی سود شمار ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کا قرض ادا کرتے وقت قرض خواہ کے مطالبے کے بغیر اسے 20 ہزار روپے اضافی دینا جائز ہے، یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا۔
عن أبي رافع؛إن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا. فقدمت عليه إبل من إيل الصدقة. فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره. فرجع إليه أبو رافع فقال: لم أجد فيها إلا خيارا رباعيا. فقال (أعطه إياه. إن خيار الناس أحسنهم قضاء). (صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب من استلف شيئا فقضى خيرا منه۔۔۔، ج:3، رقم الحديث:1600)
(وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، فصل في القرض، مطلب في شراء المستقرض القرض من المقرض، ج:5، ص:165)
ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاما في مكان بشرط رده في مكان آخر فإن قضاه أجود بلا شرط جاز۔ (البحرالرائق، كتاب البيع، فصل في بيان التصرف في المبيع والثمن قبل قبضه، ج:6، ص:133)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں