بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ابتدا میں تکبیر تحریمہ بھول کر نمازکے درمیان ہاتھ اٹھائے بغیر تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز مکمل کرنا


سوال

ایک شخص جماعت میں شریک ہوا، لیکن تکبیرِ تحریمہ  کہنا بھول گیا یا کہا لیکن شک میں پڑگیا، اس لیے اس نے تھوڑی دیر بعد یا اگلی رکعت میں بغیر ہاتھ کانوں تک اٹھائے تکبیر تحریمہ کی نیت سے " تکبیر" کہدیا اور آخر میں باقی نماز مکمل کرلی۔ سوال یہ ہے کہ اس شخص کی جماعت کے ساتھ  نماز ہوگئی ہے یا  اس پر نماز کا اعادہ ضروری ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے نماز کے صحیح ہونے کے لیے منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط تکبیرِ تحریمہ ہے، اور تکبیر تحریمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ قیام کی حالت میں ہو،نماز میں  ابتدا کی نیت سے زبان سے اس پر تلفظ ہو۔ البتہ تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھوں کا اٹھانا سنت ہے فرض یا واجب نہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص نماز میں اس طرح شریک ہوا ہو، کہ تکبیر تحریمہ کہنا بھول گیا ہو، یا تکبیر تحریمہ کہنے میں اسے شک ہوگیا ہو،  پھر تھوڑی دیر بعد یا اگلی رکعت میں قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ کی نیت سے ہاتھ اٹھائے بغیر" تکبیر" کہدیا ہواور آخر میں باقی نماز مکمل کرلی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوگئی ہے، لہذا اس پر نماز کا اعادہ ضروری نہیں۔

 

لابد لصحة الصلاة من سبعة وعشرين شيئا: الطهارة من الحدث وطهارة الجسد والثوب والمكان ۔ ۔ ۔ والنية والتحريمة بلا فاصل والإتيان بالتحريمة قائما قبل انحنائه للركوع وعدم تأخير النية عن التحريمة،والنطق بالتحريمة بحيث يسمع نفسه على الأصح.(مراقى الفلاح شرح نورالإيضاح، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ص:81،84)

"وهي إحدى وخمسون" تقريبا فيسن "‌رفع ‌اليدين للتحريمة حذاء الأذنين للرجل" لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا افتتح الصلاة كبر ثم رفع يديه حتى يحاذي بإبهاميه أذنيه ثم يقول: "سبحانك اللهم وبحمدك … " الخ.(مراقى الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، فصل  في سننها، ص:96)


فتویٰ نمبر : 10341/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں