بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کی شادی کے لیے گھر فروخت کرنا اور اولاد میں سے کسی کا اس میں حصے کا مطالبہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص بیٹے کی شادی کے لیے اپنا گھر فروخت کرتا ہو، تو کیا اس کی دیگراولاد میں سے کسی کو  اس میں مطالبے کا حق حاصل ہےیا نہیں؟

جواب

ہرشخص اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد میں ہر قسم  کے جائز مالکا نہ تصرفات کر سکتا ہے، چاہے اس کو فروخت کرے یا کسی کو ہبہ کرے، نیز مرنے سے پہلےاولاد کا والد کے ذاتی مال و جائیداد میں نہ کوئی حصہ ہوتا ہے اور نہ اس کو مطالبے کا حق ہے ۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص بیٹے کی شادی کے لیے اپنا گھر فروخت کرتا ہو، تواولاد میں کسی کواس میں مطالبے کا حق حاصل نہیں۔

 

"كلّ يتصرّف في ملكه المستقل كيفما شاء،أي:أنّه يتصرّف كما يريد بإختياره، أي: لايجوز منعه من التصرّف من قبل أي أحد،هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(دررالحكّام، الباب الثالث، الفصل الأوّل، ج:3، ص:201)

"وشروطه: ثلاثة... ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل."(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10/ص:491)


فتویٰ نمبر : 3676/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں